پاکستان

درمیانی عمر میں جسمانی وزن میں کمی لانا دل کی صحت بہتر بناتا ہے، تحقیق

جسمانی وزن میں کمی لانے کی خواہش ہر فرد کو ہوتی ہے۔

مگر ایسا کرنے سے نہ صرف شخصیت بہتر ہوتی ہے بلکہ درمیانی عمر میں ایسا کرنے سے فالج جیسے جان لیوا مرض کا خطرہ کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

لندن کالج یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ درمیانی عمر میں جسمانی وزن میں محض 5 فیصد کمی لانے سے ورم گھٹ جاتا ہے، فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے جبکہ دل کی صحت بہتر ہوتی ہے۔

عمر میں اضافے کے ساتھ بیشتر افراد کا جسمانی وزن بڑھ جاتا ہے، جس سے جسم پر دباؤ بڑھتا ہے، معیار زندگی متاثر ہوتا ہے جبکہ دل کی شریانوں اور میٹابولک صحت کو نمایاں نقصان پہنچتا ہے۔

اس نئی تحقیق میں 6 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا تھا۔

42 سال کی عمر میں وہ موٹاپے کا شکار تو نہیں تھے مگر جسمانی وزن کافی زیادہ بڑھ چکا تھا۔

ان افراد کو 2 گروپس میں تقسیم کیا گیا۔

ایک گروپ جس میں شامل افراد جسمانی وزن میں کم از کم 5 فیصد کمی لانے میں کامیاب ہوئے جبکہ دوسرے گروپ میں وہ افراد تھے جن کے جسمانی وزن میں 5 فیصد اضافہ ہوا۔

اس کے بعد ان کی صحت کا جائزہ 62 سال کی عمر تک لیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ عمر کی 4 اور 5 ویں دہائی کے دوران جسمانی وزن میں کمی لانے والے افراد کی دل کی صحت ویسی ہی ہو جاتی ہے جس کا جسمانی وزن کبھی نہیں بڑھتا۔

جب یہ افراد 62 سال کی عمر میں پہنچے تو دونوں گروپس میں شامل افراد کے کولیسٹرول لیول، بلڈ پریشر اور ورم کے آثار کا موازنہ کیا گیا۔

تحقیق کے مطابق زائد جسمانی وزن کے مالک افراد کی میٹابولک اور دل کی صحت درمیانی عمر میں وزن میں کمی لانے سے بہتر ہوگئی۔

محققین کے مطابق یہ مشاہداتی تحقیق ہے تو ابھی اس کے نتائج کو ٹھوس نہیں قرار دیا جاسکتا۔

مگر ان کا کہنا تھا کہ یہ ضرور واضح ہے کہ جسمانی وزن کو صحت مند سطح پر رکھنا دل کی صحت کے لیے بہترین ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دل کی شریانوں کی ناقص صحت سے ذیابیطس ٹائپ 2، امراض قلب، ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔

محققین کے مطابق نتائج سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ جسمانی وزن میں کمی طویل المعیاد بنیادوں پر صحت کے لیے مفید ہوتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker