چیف آف بیرک نوابزادہ میر شادین خان شاہوانی کی سربراہی میں مصالحتی گرینڈ جرگہ منعقد ،جرگہ میں مختلف اقوام کے قبائلی تنازعات و مختلف نوعیت کے مسلہ مسائل کو حل کرنے کیلئے فریقین و گواہان کے بیانات اور ثالیثن کے دلائل و تجاویزات کو غور سے سننے کے بعد قبائلی رسم و رواج اور شریعت کی روح کے عین مطابق فیصلے صادر کیے گئے ۔۔۔

چیف آف بیرک نوابزادہ میر شادین خان شاہوانی کی سربراہی میں مصالحتی گرینڈ جرگہ منعقد ،جرگہ میں مختلف اقوام کے قبائلی تنازعات و مختلف نوعیت کے مسلہ مسائل کو حل کرنے کیلئے فریقین و گواہان کے بیانات اور ثالیثن کے دلائل و تجاویزات کو غور سے سننے کے بعد قبائلی رسم و رواج اور شریعت کی روح کے عین مطابق فیصلے صادر کیے گئے ۔۔۔
جرگہ میں آغا رحیم شاہ مفتی عطاالرحمان شاہ ٹکری ملک بیگ شاہوانی ٹکری عبدالقیوم محمدشئی ٹکری محبوب احمد شاہوانی ٹکری سلیم شاہوانی ٹکری نور احمد قمبرانی ٹکری بہار خان شاہوانی رئیس غلام صدیق آبیزئی حاجی شکیل محمدشہی میر عبدلباقی مینگل میر مجید شاہوانی حاجی محمد رفیق شاہوانی ملک لطیف شاہوانی حاجی ریاض جان شاہوانی چیرمین بابل شاہوانی صدر محمد حنیف شاہوانی طارق جان شاہوانی حاجی محمد عمر شاہوانی محمد یوسف شاہوانی حاجی سمیع اللہ شاہوانی زین جان شاہوانی غلام مرتضی ابابکی منظور احمد شاہوانی بابل جان شاہوانی حاجی محمد عثمان شاہوانی رئیس خیر جان شاہوانی حاجی امام بخش شاہوانی حاجی محمد شریف شاہوانی محمد علیم مینگل ملک داد محمد شاہوانی ماما عبدالواحد شاہوانی ماما عبداللہ شاہوانی و دیگر معززین شریک تھے
اس موقع پر چیف آف بیرک نوابزادہ میر شادین خان شاہوانی نے جرگے عمائدین اور عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی تنازعات کا مکمل خاتمے کرکے ہی دم لینگے۔۔ علاقے کے پائیدار امن کیلئے سب کو ملکر کردار ادا کرنے چاہیے۔۔ جرگے نظام ہمارے بلوچ روایات کا ایک اہم جز ہے۔ بلوچی جرگے کے فیصلے ہمیشہ انصاف پر مبنی ہوتے ہیں۔۔ جہاں انصاف غریب اور امیر سب کیلئے یکساں ہیں جرگہ سسٹم کا ایک اہم اصول یہ بھی ہے اگر کوئی قصور وار ہو۔ انہیں کھل کر قصوار ٹھہرایا جاتا ہے چاہیے وہ جتنا بااثر کیوں نہ ہو۔۔ حق کو حق کہنے ہی سے معاشرے میں انصاف کا بول بالا ہوگا۔۔ چیف آف بیرک نوابزادہ میر شادین خان شاہوانی نے جرگہ کے توسط سے بلوچ نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ علم و دانش کے حصول پر اپنے تمام تر توجہ مرکوز کریں اور آپسی تنازعات سے دور ہی اختیار کریں تب ہمارے معاشرے ترقی کی راہ پر حقیقی معنوں میں گامزن ہوں گے۔۔



