صبح یا رات ، بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے کس وقت چہل قدمی کرنا بہترین ہوتا ہے؟
ذیابیطس ایسا دائمی اور سنگین مرض ہے جس کا سامنا ہر 10 میں سے ایک فرد کو ہوتا ہے اور اس کے کیسز کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

زیادہ تر افراد کو ذیابیطس ٹائپ 2 کا سامنا ہوتا ہے جو اس مرض کی سب سے عام قسم ہے اور 90 سے 95 فیصد کیسز میں اس کی تشخیص ہوتی ہے، اس سے ہٹ کر ذیابیطس ٹائپ 1 اور حاملہ خواتین میں ذیابیطس اس مرض کی دیگر اہم اقسام ہیں۔
ذیابیطس کی تمام اقسام میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ خون میں شکر کی مقدار بڑھ جانا جسے بلڈ شوگر کہا جاتا ہے۔
ہمارا جسم بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے کے لیے انسولین تیار کرتا ہے۔
لبلبے میں بننے والا یہ ہارمون خون میں موجود گلوکوز خلیات کے اندر داخل ہونے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
یعنی جب ہم کچھ کھاتے ہیں تو وہ غذا گلوکوز میں تبدیل ہوتی ہے جس کے ردعمل میں لبلبے سے انسولین ہارمون کا اخراج ہوتا ہے جو خلیات کے دروازے کھول کر گلوکوز کو توانائی میں بدلتا ہے۔
ہائی بلڈ شوگر سے جسم کو متعدد منفی اثرات کا سامنا ہوتا ہے۔
ایسا کہا جاتا ہے کہ چہل قدمی سے بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
صبح اور رات کو چہل قدمی سے واقعی ایسا ہوتا ہے مگر دونوں میں زیادہ بہترین وقت کونسا ہوتا ہے؟
اس کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ کس وقت آپ کا بلڈ شوگر لیول بڑھتا ہے۔
صبح کے وقت چہل قدمی کرنے سے بلڈ شوگر پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
بلڈ گلوکوز کی سطح صبح کے وقت زیادہ ہوسکتی ہے، چاہے رات بھر کچھ نہ بھی کھایا ہو۔
یہی وجہ ہے کہ صبح چہل قدمی جیسے ورزش کرنے سے ہائی بلڈ شوگر کو اس وقت کنٹرول میں رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
ایسا کرنے سے ہارمونز جگر کو مزید گلوکوز ریلیز کرنے کا سگنل دیتے ہیں تاکہ جسم چہل قدمی کے لیے تیار ہوسکے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق ناشتے سے قبل 30 منٹ کی معتدل ایروبک ورزشیں جیسے تیز رفتاری سے چہل قدمی کرنے سے صبح کے وقت ذیابیطس ٹائپ کے مریضوں کی بلڈ شوگر کی سطح میں کمی آتی ہے۔
صبح کی ورزش سے دن بھر بلڈ شوگر کو زیادہ بہتر طریقے سے کنٹرول میں رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
شام کے وقت چہل قدمی کرنے سے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
رات کو کھانے کے بعد چہل قدمی کرنے سے غذا کو جزو بدن بنانے بلڈ شوگر میں ہونے والے اضافے کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ رات کے کھانے کے 30 منٹ بعد 10 منٹ کے لیے چہل قدمی کرنا بلڈ شوگر کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق صرف صبح اور رات کو نہیں بلکہ دن بھر میں کسی بھی وقت کھانے کے بعد چہل قدمی کرنا بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے مفید ہوسکتا ہے۔
اگر ہر بار کھانے کے بعد چہل قدمی کرنا ممکن نہیں تو جب بھی ہوسکے چہل قدمی کو عادت بنانے کی کوشش کریں۔
ایسے شواہد موجود ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ چہل قدمی کو معمول بنانے سے طویل المعیاد بنیادوں پر بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔



