امریکا میں وسط مدتی انتخابات کا فیصلہ کن مرحلہ: تازہ سرویز میں کون آگے؟

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے محض دو روز قبل سیاسی ماحول میں غیر معمولی ہیجان برپا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران ہونے والے ان انتخابات کے نتائج آئندہ دو برسوں کیلئے وفاقی قانون سازی، بجٹ کی منظوری اور صدارتی پالیسیوں کی نگرانی کا رخ طے کریں گے۔ تازہ قومی سرویز کے مطابق ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں سبقت لیے ہوئے ہیں جبکہ سینیٹ کی 7 کلیدی نشستوں اور گورنرز کے متعدد ایوانوں میں دونوں جماعتوں کے درمیان اعصاب شکن مقابلہ متوقع ہے۔
📊
انٹرایکٹو انتخابی میٹرکس و سروے ڈیٹا
👆 ٹیبز پر کلک کر کے نتائج دیکھیں
ایوانِ نمائندگان کی متوقع جماعتی پوزیشن (Cook Political Report درجہ بندی)
اکثریتی ہدف: 218 نشستیں
🔵 ڈیموکریٹس کے حق میں جھکاؤ: 222
🟡 کڑا مقابلہ (Toss-Up): 18
🔴 ری پبلکنز کے حق میں جھکاؤ: 195
222
18
195
▲
218 نشستیں (ایوانی اکثریت)
موجودہ ایوان بمقابلہ انتخابی تخمینہ
ایوانِ نمائندگان: مائیکرو حلقوں کی جنگ
کانگریس کے ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں پر الیکشن اس امر کا امتحان ہے کہ کیا ڈیموکریٹس 218 نشستوں کی سادہ اکثریت حاصل کر پائیں گے۔ کُک پولیٹیکل رپورٹ کے مطابق 222 نشستوں پر ڈیموکریٹس کو برتری حاصل ہے جبکہ 195 نشستوں پر ری پبلکن کا پلڑا بھاری ہے۔ 18 حلقے ایسے ہیں جنہیں انتخابی تجزیہ کار "ٹاس اپ” (Toss-Up) قرار دے رہے ہیں۔ گوکہ قومی پولز میں ڈیموکریٹس اوسطاً 8.5 فیصد پوائنٹس سے آگے ہیں، تاہم امریکی نظام کے تحت قومی ووٹ کے بجائے مقامی حلقوں کے نتائج ہی حتمی فتح کا فیصلہ کریں گے۔
سینیٹ کا انتخابی توازن: عددی کشمکش
سینیٹ میں اس وقت ری پبلکنز کو 53 کے مقابلے میں 47 نشستوں کے ساتھ برتری حاصل ہے۔ زیرِ انتخاب 35 نشستوں میں سے 22 نشستیں ری پبلکنز کے پاس ہیں جن میں سے 6 کو کُک رپورٹ نے غیر یقینی قرار دیا ہے۔ ڈیموکریٹس کو سینیٹ کا کنٹرول سنبھالنے کیلئے خالص 4 اضافی نشستیں درکار ہیں۔ ان کے لیے سب سے امید افزا میدان شمالی کیرولائنا، مین اور الاسکا ہیں جبکہ مشی گن میں مسلم امیدوار ڈاکٹر عبدالسید کی نشست کا دفاع ڈیموکریٹس کیلئے کڑا امتحان ہے۔
حتمی منظرنامہ
تقریباً 5 کروڑ امریکی شہری پولنگ کے دن سے پہلے ہی بذریعہ ڈاک اور براہِ راست بیلٹ باکس میں اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ یہ انتخابات اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں کہ یہ نہ صرف صدر ٹرمپ کی بقیہ مدت کا پارلیمانی لائحہ عمل طے کریں گے بلکہ 2028 کے آئندہ صدارتی معرکے کے خدوخال پر بھی گہرا اثر ڈالیں گے۔ انتخابی نتائج کا حتمی اعلان ووٹوں کی باضابطہ گنتی مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آسکے گا۔



