چیٹ جی پی ٹی انسانوں والے کام کرنے میں بہتر ہو رہا ہے، اوپن اے آئی کا دعویٰ

لوگوں کی جانب سے اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی کو مختلف کاموں جیسے دفتری امور یا تعلیمی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
مگر اب اس کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ماڈلز روزمرہ کے کاموں جیسے شاپنگ اور بجٹ تیار کرنے میں انسانوں جتنے بہتر ہوتے جا رہے ہیں۔
اوپن اے آئی کی جانب سے ایک نئے انٹرنل ٹول کا اعلان کیا گیا جس کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کس طرح مختلف روزمرہ کے کاموں کو ہینڈل کرتی ہے۔
اوپن اے آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جی پی ٹی آسٹرا ماڈل نے سیلاب کے حوالے سے کمیونٹی رضا کاروں کی تیاری کے ٹاسک کو 98 فیصد جبکہ ذیابیطس کے مریض کے کھانے کے پلان کو 90.4 فیصد درستگی سے تیار کیا۔
سام آلٹمین کا اے آئی ٹیکنالوجی کے ایک اور خطرے کا انتباہ
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب اوپن اے آئی کو میٹا، انتھروپک اور گوگل کی جانب سے سخت مسابقت کا سامنا ہے۔
یہ سب کمپنیاں ایسے اے آئی ایجنٹس تیار کرنے میں مصروف ہیں جو حقیقی دنیا کے ٹاسکس کو مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
اوپن اے آئی اور دیگر کمپنیوں کو اے آئی کے محفوظ ہونے کے حوالے سے خدشات اور دباؤ کا بھی سامنا ہے۔
ان حالات میں اوپن اے آئی نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ چیٹ جی پی ٹی روزمرہ کے کاموں جیسے سودا سلف کی فہرست یا آن لائن فارمز بھرنے وغیرہ کو کس حد تک درست طریقے سے مکمل کرسکتا ہے۔
اوپن اے آئی کی ایک محقق جینی یانگ نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ چونکہ متعدد افراد ایپ کو استعمال کرتے ہیں تو ہم یہ جاننا چاہتے تھے کہ مختلف کاموں میں یہ اے آئی چیٹ بوٹ کس حد تک انسانی ضروریات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح ہم یہ بھی جاننا چاہتے تھے کہ ایسی کونسی چیزیں ہیں جن میں یہ ابھی بھی اچھا نہیں اور اس ٹیکنالوجی کو کیسے لوگوں کے لیے مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
اس مقصد کے لیے کمپنی نے 4 ہزار افراد سے سروے کیا اور پھر ان میں سے 100 صارفین کو مختلف ایسے ٹاسکس تحریر کرنے کا کہا جو وہ اے آئی سے کرانا چاہتے تھے۔
اوپن اے آئی نے اس بات کو یقینی بنایا کہ چیٹ جی پی ٹی کے صارفین یہ سمجھ سکیں کہ وہ کس ٹاسک کو تجویز کر رہے ہیں۔
مجموعی طور پر جی پی ٹی 6 آسٹرا ماڈل کی پروموٹس کا روزمرہ کے ٹاسکس کے حوالے سے عمومی کارکردگی کا اسکور 80 فیصد رہا۔



