بھارت میں فصلوں کی باقیات جلانے کے باعث پاکستان سمیت پورے خطے کی فضا زہر آلود
بھارتی اسموگ پاکستان سمیت پورے خطے کے لیے آلودگی کا باعث بن گئی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی اسموگ نے پاکستان سمیت پورے خطے کی فضا کو زہر آلود کر دیا ہے، سرحد پار سے آنے والی آلودگی لاہور، بالائی پنجاب اور سرحدی اضلاع کی فضا کو خطرناک حد تک زہریلا بنا رہی ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی فضائی آلودگی خلا سے بھی واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے، ناسا کے MODIS اور VIIRS سینسرز اور یورپی خلائی ایجنسی (ESA) کے Sentinel سیٹلائٹس خلا سے بھارت کی فضا میں مسلسل پھیلی ہوئی آلودگی کی تہہ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سردیوں میں فضائی آلودگی کے اضافے کی بنیادی وجہ بھارت میں فصلوں کی باقیات کو جلانا ہے، بھارتی پنجاب اور ہریانہ میں پرالی جلانے سے اٹھنے والا زہریلا دھواں سب سے پہلے پاکستانی سرحدی علاقوں کو نشانہ بناتا ہے۔
جغرافیائی قربت کے باعث بھارتی کسانوں کی قانون شکنی کا فوری اثر پاکستانی پنجاب کے ائیر کوالٹی انڈیکس پر پڑتا ہے۔
انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ کے مطابق 15 ستمبر سے یکم نومبر 2026 کے درمیان 7 ریاستوں میں پرالی جلانے کے 3 ہزار 316 واقعات سامنے آئے۔
ہر سال سردیوں کے موسم میں دریائے گنگا کے میدانی علاقوں (Indo-Gangetic Plains) میں دھوئیں اور دھند کے گہرے بادل دہلی، پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے کا سب سے بڑا آلودگی دہندہ ہونے کے باوجود بھارت پڑوسی ممالک سے مشترکہ حکمتِ عملی (Climate Diplomacy) سے گریزاں ہے، فصلوں کی باقیات کے علاوہ بھارت میں جاری صنعتی سرگرمیاں بھی پورا سال فضا کو زہریلا رکھتی ہیں۔



