سوات میں سیاح خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی، پولیس کے دو اہلکار جیل منتقل

سوات میں سیاح خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی، پولیس کے دو اہلکار جیل منتقل
🔶 خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں سیاحت کی غرض سے آنے والے پشاور کے ایک شادی شدہ جوڑے کے ساتھ مبینہ زیادتی اور ہراساں کرنے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس پر پولیس نے اپنے ہی محکمے کے دو اہلکاروں کو گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا ہے۔
🔶 سوات کے تھانہ رحیم آباد میں درج ایف آئی آر کے مطابق مطیع اللہ ساکن پشاور اپنی اہلیہ کے ہمراہ سوات کی سیر کے لیے آئے تھے۔ واپسی پر اینگرو ڈھیرئی بائی پاس چوک کے قریب دو پولیس اہلکاروں نے انہیں روکا اور بعدازاں رکشے کے ذریعے جنرل بس اسٹینڈ روانہ کردیا۔
🔶 خاتون کے بیان کے مطابق کچھ دیر بعد دونوں اہلکار دوبارہ ان کے پاس پہنچے اور تفتیش کے بہانے انہیں فضاگٹ لے گئے، جہاں ایک ہوٹل میں مبینہ طور پر خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
🔶 ملزمان نے واقعے کے بارے میں کسی کو بتانے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔
🔶 پولیس نے واقعے کی تفتیش کے بعد غضنفر ساکن پشاور اور وحید اللہ ساکن الہ ڈھنڈ کے خلاف مقدمہ درج کرکے دونوں کو گرفتار کرلیا۔ دونوں اہلکار پولیس لائن کانجو میں تعینات بتائے جاتے ہیں۔
🔶 پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد جیل منتقل کردیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
🔶 ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار اہلکاروں کے ماضی کے حوالے سے بھی مختلف شکایات سامنے آئی ہیں، جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔



