پاکستان

تھر پارکر کو آفت زدہ ضلع قرار دینے کا فیصلہ

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے خشک سالی کی سنگین صورتِ حال کے پیش نظر تھرپارکر کو آفت زدہ ضلع قرار دینے کا فیصلہ کرلیا ہے اور متعلقہ حکام کو متاثرہ علاقوں میں فوری امدادی اقدامات کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت تھرپارکر میں خشک سالی کی صورتِ حال اور اس سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا، جس میں حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع میں خشک سالی جیسی صورتِ حال پیدا ہوچکی ہے اور بارشیں نہ ہونے کے باعث 85 سے 90 فیصد تک فصلیں تباہ ہوچکی ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ستمبر 2026 کے دوران تھرپارکر کے ساتوں تعلقوں میں صرف ایک سے 36 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ بارشوں کی غیر متوازن تقسیم کے باعث فصلیں اور قدرتی گھاس پکنے سے پہلے ہی خشک ہوگئیں، جس سے زراعت اور مال مویشیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے حکام کو ہدایت کی کہ متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے غیر فعال آر او پلانٹس کی فوری مرمت اور پانی کی فراہمی کے تمام ذرائع بحال کرنے کا حکم بھی دیا۔

مراد علی شاہ نے نوکوٹ سے مٹھی تک پانی کی فراہمی کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کرنے اور اس مقصد کے لیے پانی کی لائن بچھانے کے منصوبے کی فزیبلٹی کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی کے مستقل حل کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

وزیراعلیٰ نے چیف سیکریٹری سندھ کو ہدایت کی کہ خشک سالی کے باعث متاثر ہونے والے مویشیوں کے تحفظ کے لیے ممکنہ اقدامات سے متعلق سفارشات تیار کی جائیں تاکہ مال مویشیوں کو نقصان سے بچانے کے لیے بروقت انتظامات کیے جاسکیں۔

اس موقع پر مراد علی شاہ نے کہا کہ تھرپارکر کے متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور سندھ حکومت انہیں ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کی جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ عوام کو پینے کے پانی کی فراہمی، مویشیوں کا تحفظ اور خشک سالی سے متاثرہ خاندانوں کو ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو مؤثر بنایا جائے تاکہ خشک سالی کے اثرات کم کیے جاسکیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker