پولینڈ کے شہر کراکوف میں فائرنگ سے 6 افراد ہلاک، حملہ آور کے والدین، بہن کی لاشیں گھر سے برآمد

پولینڈ کے جنوبی شہر کراکوف کے مرکزی چوک میں فائرنگ کے نتیجے میں 4 خواتین سمیت 6 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہو گئے، واقعے کے بعد پولینڈ کی حکومت نے 2 روزہ قومی سوگ کا اعلان کر دیا۔
ہفتے کے روز شہر کے تاریخی مرکزی چوک میں ہونے والے فائرنگ کے واقعے نے پولینڈ کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا، جہاں عوام خود کو مغربی یورپ کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ محفوظ تصور کرتے رہے ہیں۔ اکتوبر میں اسکولوں میں چاقو سے حملوں کے واقعات کے بعد اس تازہ حملے نے شہریوں میں تحفظ کے حوالے سے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔ حکام نے اکتوبر میں پیش آنے والے چاقو حملوں کو آن لائن انتہا پسند مواد سے بھی جوڑا تھا۔
حکام کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں 17 افراد زخمی ہوئے، جن میں 2 پولیس اہلکار اور حملہ آور بھی شامل ہیں۔
مشتبہ حملہ آور کے آبائی شہر اوسٹروویک شفیئنتوکژسکی میں پولیس نے بتایا کہ اس کے والدین اور بہن کی لاشیں گھر سے برآمد کر لی گئی ہیں، جبکہ ملزم اسپتال میں زیرِ علاج ہے اور اس کی حالت تشویشناک ہے۔
فائرنگ سے 6 افراد کی ہلاکت کے بعد پولینڈ میں 2 روزہ قومی سوگ کا منایا جا رہا ہے، حکام نے حملے کے ممکنہ طور پر دائیں بازو کے انتہا پسند نظریے سے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے سکیورٹی سخت کر دی۔
کراکوف کے قدیم شہر میں مرکزی مارکیٹ اسکوائر اور اس کے اطراف کی سڑکیں اور قریبی کئی کیفے بند رہے، سٹی ہال پر قومی پرچم سرنگوں رہا۔ سوگواروں نے علاقے کے مختلف مقامات پر شمعیں روشن کرکے ہلاک ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
چوک میں واقع سینٹ میری چرچ سے بجائی جانے والی روایتی ٹرمپٹ کی دھن بھی ہلاک ہونے والوں کی یاد میں 12 گھنٹے کے لیے معطل کر دی گئی۔ سرکاری خبر رساں ادارے پی اے پی کے مطابق 1939 کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب یہ روایت معطل کی گئی۔
وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ سینئر کانسٹیبل جاکوب کولک اور سینئر کانسٹیبل آرتھر مورانسکی حقیقی ہیرو ہیں۔ دونوں اہلکاروں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ممکنہ طور پر کئی انسانی جانیں بچائیں۔



