ڈریپ کا 9 مشکوک اور غیرمعیاری ادویات کیخلاف ہنگامی الرٹ جاری

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) نے کراچی کی مارکیٹوں میں فروخت ہونے والی 9 مشکوک، جعلی، ملاوٹ شدہ اور غیر رجسٹرڈ ادویات و طبی مصنوعات کی نشاندہی کرتے ہوئے ہنگامی الرٹ جاری کر دیا، متاثرہ مصنوعات میں بچوں کے استعمال کی اشیا سمیت آنکھوں، دانتوں، کانوں اور جلد کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی مصنوعات بھی شامل ہیں۔
ڈریپ کے جاری کردہ ریپڈ الرٹ کے مطابق ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری سندھ کراچی میں کیے گئے ٹیسٹوں کے دوران مذکورہ مصنوعات کے نمونے غیر معیاری، ملاوٹ شدہ، جعلی یا غیر رجسٹرڈ پائے گئے، جس کے بعد شہریوں کو ان کے استعمال سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الرٹ میں شامل 9 مصنوعات میں بے بی آئی اسپرے، ٹوبرامائیسین اوپتھلمک سولوشن، ٹوٹل کیئر ماؤتھ واش، ڈینزیکور ماؤتھ واش، اینٹی پلاک ماؤتھ واش اور ہیپی ٹوتھ کڈز ماؤتھ واش شامل ہیں۔ اسی طرح کان کے درد کے لیے استعمال ہونے والی بے بی کیئر ایئر کریم اور وائٹل ایئر کریم جبکہ جلد کے مسائل کے لیے تیار کردہ میجک لوشن کا بیچ نمبر 002 کو بھی مشکوک مصنوعات کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
ڈریپ کے مطابق ان مصنوعات پر درج مینوفیکچرنگ تفصیلات میں ایل سی کیئر فارما اور نیو ہربل کیئر کراچی کے نام سامنے آئے ہیں۔ اور سات مصنوعات پر ایل سی کیئر فارما جبکہ بے بی کیئر ایئر کریم اور وائٹل ایئر کریم پر نیو ہربل کیئر کا نام درج ہے۔ تاہم ان تفصیلات سے مصنوعات کے اصل ماخذ یا تیاری کی حتمی تصدیق نہیں ہوتی۔
اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ جعلی اور غیر معیاری ادویات کا استعمال مریضوں کی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ ایسی مصنوعات سے نہ صرف مطلوبہ علاج متاثر ہو سکتا ہے بلکہ انفیکشن اور دیگر بیماریوں کی شدت میں اضافے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ بچوں اور آنکھوں جیسے حساس اعضا کے علاج میں استعمال ہونے والی مصنوعات کے حوالے سے خصوصی احتیاط کی ضرورت ہے۔
’مشکوک مصنوعات کی تیاری، ترسیل اور فروخت کی نگرانی سخت کی جائے‘
ڈریپ نے صوبائی ڈرگ کنٹرول حکام اور متعلقہ فیلڈ ٹیموں کو ہدایت کی ہے کہ مشکوک مصنوعات کی تیاری، ترسیل اور فروخت کی نگرانی سخت کی جائے، ان کی نشاندہی اور ضبطی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور ڈسٹری بیوٹرز، فارمیسیز اور میڈیکل اسٹورز کے ذریعے ان کی مزید فروخت روکی جائے۔
اتھارٹی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ مذکورہ مصنوعات کا استعمال فوری طور پر بند رکھیں اور اگر ان کے استعمال کے بعد کوئی طبی پیچیدگی سامنے آئے تو فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
شہریوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ ادویات صرف لائسنس یافتہ فارمیسیز اور مستند میڈیکل اسٹورز سے خریدیں اور کسی بھی دوا یا طبی مصنوعات کی اصلیت مشکوک ہونے کی صورت میں ماہرین سے مشورہ کریں۔
دو ماہ قبل پنجاب میں بھی 16 مختلف ادویات کے غیرمعیاری اور جعلی ہونے کا انکشاف ہوا تھا، صوبے کے مختلف میڈیکل اسٹورز سے غیرمعیاری اور جعلی ادویات پکڑی گئی تھیں۔ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی رپورٹس میں متعدد ادویات کے مخصوص بیچ غیرمعیاری، ملاوٹ شدہ یا جعلی قرار دیئے گئے تھے۔
متاثرہ ادویات میں دمہ اور الرجی کی علامات کے لیے استعمال ہونے والی دوا، خون کے لوتھڑے روکنے والی دوا، وٹامن بی کی کمی اوراعصابی مسائل کی دوا سمیت پٹھوں کے کھچاؤ کی دوا شامل تھی۔ جبکہ سانس اور کھانسی کے شربت میں مقررہ حد سے زیادہ نقصان دہ کیمیکل کی موجودگی بھی سامنے آئی تھی۔



