گورنر ہاؤس کراچی میں 14 روزہ جشن آزادی کا رنگا رنگ آغاز

معرکہ حق میں پاکستان کی بھارت کے خلاف تاریخی فتح اور جشن آزادی کی 14 روزہ تقریبات کے سلسلے کا گورنر ہاؤس کراچی میں پرچم کشائی سے باضابطہ آغاز ہوگیا ہے۔
تقریب میں ایم کیوایم کی قیادت، چین، روس، ایران ، سعودی عرب، عمان،امارات، ترکیہ،جاپان، انڈونیشیا، سری لنکا اور دیگر ممالک کے قونصل جنرلز، نمایاں کاروباری اور تاجر شخصیات، اقلیتی کمیونٹی کے نمائندوں اور لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریر کے آغاز پر گورنر سندھ نے کہا کہ ان کی آواز ملی نغموں سے زیادہ اچھی نہیں، بہتر ہوگا کہ ملی نغموں سے ماحول گرمایا جاتا رہے۔ گورنر سندھ خود بھی ملی نغمے گاتے رہے۔
اپنے خطاب میں گورنر سندھ نے کہا کہ اس سال 14 اگست تک روزانہ کی بنیاد پرجشن آزادی کی تقاریب منائی جائیں گی۔
گونرہاؤس کراچی میں یکم اگست پرچم کشائی کیلئے مخصوص کیا گیا جبکہ 2 اگست شہدا کے نام ہے۔ 3 اگست کو مدارس کے طلبہ اور اساتذہ مدعو ہوں گے، 4 اگست کو شجرکاری، 5 اگست کو مشاعرہ، 6 اگست کو اسکولز اور کالجز کے طلبہ و طالبات، 7 کو اونٹ ریلی، 8 کو کشتی ریلی، 9 اگست کو بائیک ریلی، 10 اگست کو حیدر آباد میں ملک کے معروف گلوکار علی ظفر کی پرفارمنس، 11 اگست کو اقلیتوں کا اجتماع اور 12 اگست کو گورنر ہاؤس کراچی میں گلوکار علی ظفر پرفارم کریں گے۔
کامران ٹیسوری نے کہا کہ 13 اور 14 اگست کو بھی جشن آزادی کی تقریبات ہوں گی تاہم پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے امام حسینؓ اور دیگر شہدائے کربلا کے چہلم کے احترام میں میوزک کا اہتمام نہیں کیا جائے گا۔
معرکہ حق کا ذکر کرتے ہوئے گورنر سندھ نے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے وطن کا دفاع حقیقی معنوں میں ناقابل تسخیر بنایا۔
انہوں نے پاکستان کیلئے جانیں قربان پیش کرنے والے تمام شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ بے نظیر بھٹو ہوں یا ذوالفقار علی بھٹو جس شخصیت نے بھی وطن کیلئے جان دی،اسے یاد کیا جانا چاہیے۔
کامران ٹیسوری نے ساتھ ہی کہا کہ یہ ایم کیوایم کے شہدا کی قربانیاں ہیں جو آج وہ گورنرسندھ کے عہدے پر فائز ہیں۔
گورنر سندھ نے کہا کہ دشمن کے خلاف جو بھی معرکہ ہوگا، ایم کیوایم کا ایک ایک کارکن افواج پاکستان کے ساتھ کھڑا نظر آئے گا۔
کامران ٹیسوری نے کہا کہ وہ ایم کیوایم پاکستان کی قیادت کے مشکور ہیں جنہوں نے جشن آزادی کی ان تقریبات میں بھرپور ساتھ دیا۔انہوں نے کہا کہ اس بار جشن آزادی کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔
کامران ٹیسوری کا کہنا تھاکہ پاکستان میں سب سے بڑا بے جوڑ پرچم گورنر ہاؤس کراچی میں لہرایا جانا اس بات کی علامت ہے کہ ملک میں تمام قومیتوں، نسلوں، مذاہب اور فرقوں کے افراد ایک جان ہیں۔ بھارت دیکھ لے پورا پاکستان ایک ہے اوریہ پرچم لہرا رہا ہے۔
گورنر سندھ نے کہا کہ اس بار آزادی کی خوشیاں اس لیے بڑھ گئی ہیں کیونکہ بھارت کو جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا گیا ہے، اسے پانچوں محاذوں پر شکست دی گئی اور پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ ہے۔
گورنر سندھ نے امریکا سے تجارتی ڈیل ممکن بنانے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے کردار کو خاص طور پر سراہا، ساتھ ہی بھارت کیخلاف پاکستان کا بھرپور ساتھ دینے پر چین اور ترکیہ سے بھی اظہار تشکر کیا۔
بلوچستان میں دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ بھارت خواہ کچھ بھی کرلے، افواج پاکستان، تمام سیاسی جماعتیں اور قوم مل کر یہ سازشیں اسی طرح ناکام بنائے گی جس طرح مئی میں بھارت کا گھمنڈ خاک میں ملایا تھا۔
تقریب سے خطاب میں ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے گورنر سندھ کو مبارک باد دی کہ انہوں نے ایسی یادگار تقریب کا اہتمام کیا جبکہ فاروق ستار نے گورنرسندھ کے حق میں نعرے بھی لگوائے۔ انیس قائم خانی سمیت ایم کیوایم کے دیگر رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔
تقریب میں پاکستانی بحریہ، فضائیہ اور پولیس کے بینڈز نے ملی نغموں کی دھنیں بجائیں جس پر شرکا نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔ تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سالگرہ کا کیک کاٹاگیا اور آتشبازی کا مظاہرہ کیا گیا۔



