مکمل الیکٹرک” میڈ ان پاکستان گاڑی ” 10 لاکھ روپے میں جون 2026 تک مارکیٹ میں آ جائے گی

آٹو سیکٹر کیلئے بجٹ میں ایک بڑی خوشخبری یہ متوقع ہے کہ ٹیکس میں نمایاں کمی ہوگی،ہائبرڈ ، الیکٹرک اور ایندھن سے چلنے والی گاڑیاں آئندہ بجٹ میں سستی ہوں گی،بڑی آٹو کمپنیوں کی اجارہ داری ختم ہو رہی ہے، گاڑیاں 25 لاکھ روپے تک سستی ہو رہی ہیں جبکہ مکمل الیکٹرک” میڈ ان پاکستان گاڑی ” اسی سال جون تک مارکیٹ میں آ جائے گی اورالیکٹرک گاڑی کی قیمت دس لاکھ سے بھی کم ہوگی ۔
ان خیالات کا اظہارانجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی)کے چیف ایگزیکٹو حماد منصور نے کراچی میں ڈائریکٹر سمیڈا،سابق چیئرمین پاپام اور آٹو سیکٹر کے معروف تجزیہ کار مشہودعلی خان کی جانب سے دیئے گئے افطار ڈنرمیں صحافیوں سے گفتگوکے دوران کیا۔
حماد منصور نے بتایا کہ لیتھیئم بیٹری کی پہلی فیکٹری مئی تک پاکستان میں پیداوار شروع کردے گی اوردوسری فیکٹری کا ستمبر میں آغاز ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ 74 فیصد بیٹری کے پارٹس پاکستان میں مقامی سطح پر تیار ہوں گے،الیکٹرک گاڑی کی کم قیمت کی وجہ لوکل اسپیئر پارٹس ہوں گے، الیکٹرک گاڑیاں ایک چارج پر 180 کلومیٹر تک چلیں گی،کچھ گاڑیوں کی چارجنگ 1200 کلومیٹر تک ہے،الیکٹرک گاڑیوں میںاسلام آباد سے چارج کر کے کراچی تک سفر کیا جا سکے گا۔حماد منصور نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں سیمنٹ سیکٹر اور دیگر فیکٹریاں بیٹری کی جانب منتقل ہو رہی ہیں،اگر 96 ڈالر کی بیٹری امپورٹ ہو رہی ہے تو مقامی سطح پر 72 ڈالر تک بنے گی،وزیرِ اعظم کے پی اے وی ای پروگرام کے تحت 40 ہزار موٹر سائیکل اور رکشہ سبسڈی پر دیئے جا رہے ہیں،الیکٹرک گاڑیوں کو بھی اس پروگرام میں شامل کریں گے،وزیرِ اعظم کی نئی آٹو پالیسی میں لوکلائزیشن کی جانب منتقل ہو رہے ہیں،ایکسپورٹ کی بنیاد لوکلائزیشن ہے، جس سے مسابقت پیدا ہو گی،وزیرِ اعظم کی پالیسی ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں گاڑیوں پر ٹیکس میں نمایاں کمی کی جائے گی جبکہ دو سالوں میں موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ گاڑیوں کا پلانٹ لاہور میں بیٹریوں کا پلانٹ کراچی میں لگایا جارہا ہے۔چیف ایگزیکٹو ای ڈی بی نے کہا کہ گاڑیاں تیار کرنے والی پرانی بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری ختم ہوگئی ہے،پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے کے 42 کارخانے لگ گئے ہیں۔ اس موقع پر مشہود علی خان نے کہا کہ پاکستان کی ایس ایم ایز: معاشی استحکام اور ترقی کی ریڑھ کی ہڈی ہے،پاکستان کے معاشی مستقبل کا دارومدار چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کی کامیابی پر ہے اور یہ سیکٹر نوجوان اور باصلاحیت کاروباری افراد آگے بڑھا رہا ہے، یہ شعبہ تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے اور برآمدات میں تقریباً 2.8 ارب پاکستانی روپے کا حصہ ڈالتا ہے، اس طرح ایس ایم ایز ملک کی سب سے متحرک معاشی قوت کے طور پر اپنی صلاحیت ثابت کر چکی ہیں۔
مشہود علی خان نے کہا کہ کووڈ-19 کی وبا ء کے دوران اس شعبے نے غیر معمولی مضبوطی کا مظاہرہ کیا، محدود وسائل کے باوجود ایس ایم ایز نے مقامی سطح پر پیداوار کو فروغ دیا اور سپلائی چین کو برقرار رکھا، ان کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے بروقت اور جرات مندانہ پالیسی اقدامات نہایت ضروری ہیں،حکومت کی جانب سے مقامی پیداوار اور صنعتی ترقی پر توجہ ایک مثبت قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پالیسیوں میں تسلسل، مالی وسائل تک آسان رسائی اور برآمدات میں سہولت فراہم کرنے کے ذریعے پاکستان کی ایس ایم ایز عالمی منڈی میں مضبوط مقابلہ کرنے کے قابل بن سکتی ہیں، جس سے روزگار، معاشی ترقی اور استحکام کو فروغ ملے گا۔انہوں نے حکومت کو سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ صنعت، مالیات اور تجارت کے لیے معاون پالیسیوں کا نفاذکیا جائے،مالی وسائل تک رسائی اور کلسٹر بیسڈ ترقی ہونی چاہیئے،برآمدات میں سہولت اور پالیسیوں میں تسلسل ضروری ہے۔ ڈائریکٹر سمیڈا نے کہا کہ ایس ایم ایز کو تسلیم کرتے ہوئے اور ان کی مؤثر سرپرستی کے ذریعے پاکستان اپنی معاشی صلاحیت کو بروئے کار لا سکتا ہے اور ایک خوشحال مستقبل کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔



