صحت

ہر غذا میں شامل وہ چیز جسکا زیادہ استعمال ہارٹ اٹیک اور فالج کا شکار بنا سکتا ہے

نمک ایسی چیز ہے جس کے بغیر کھانا نامکمل اور بے ذائقہ محسوس ہوتا ہے، مگر اس کا زیادہ استعمال دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں اموات کا باعث بنتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جنوری 2024 میں ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ دنیا بھر میں 18 لاکھ 90 ہزار افراد غذا میں نمک کے زیادہ استعمال کے باعث انتقال کر جاتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق نمک کے زیادہ استعمال سے امراض قلب، فالج اور قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھتا ہے۔

نمک کیا ہے؟

نمک بنیادی طور پر کھانے کا ذائقہ بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس کا 60 فیصد حصہ کلورائیڈ اور 40 فیصد سوڈیم پر مشتمل ہوتا ہے۔

قدرتی غذاؤں میں بھی سوڈیم کی معمولی مقدار موجود ہوتی ہے اور روزانہ کچھ مقدار میں نمک کا استعمال جسم کے لیے اہم ہوتا ہے۔

اس سے مسلز کو سکون ملتا ہے، اعصاب مضبوط ہوتے ہیں جبکہ جسم کے اندر پانی اور منرلز کا توازن برقرار رہتا ہے۔

مگر ہمارے جسم کو روزانہ بہت کم مقدار میں نمک کی ضرورت ہوتی ہے اور عالمی ادارہ صحت نے دن بھر میں 5 گرام (ایک چائے کے چمچ) نمک کے استعمال کا مشورہ دیا ہے۔

زیادہ نمک کا استعمال خون کی مقدار، شریانوں اور گردوں پر اثر انداز ہوکر بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے جس سے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔

نمک کے زیادہ استعمال سے بلڈ پریشر بڑھنے کی وجوہات درج ذیل ہیں۔

خون کی مقدار بڑھتی ہے

سوڈیم سے بلڈ پریشر بڑھنے کی ایک اہم وجہ خون کی مقدار بڑھنا ہے۔

پانی نمک کا تعاقب کرتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ جب خون میں سوڈیم کی سطح بڑھتی ہے تو یہ اردگرد کے ٹشوز سے پانی کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔

یہ اضافی سیال بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے، صحت مند افراد میں گردے اضافی نمکیات کو خارج کرکے سیال کے توازن کو بحال کرتے ہیں۔

خون کی شریانوں میں تبدیلی

بہت زیادہ نمک کے استعمال سے خون کی شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے۔

شریانیں پھیل اور سکڑ کر خون کے دباؤ کو کنٹرول کرتی ہیں اور جسم کے مختلف اعضا تک آکسیجن اور غذائی اجزا کو پہنچاتی ہیں۔

گردوں کو نقصان پہنچتا ہے

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ گردے اضافی نمکیات کو پیشاب کے راستے خارج کرکے سیال کے توازن کو بحال کرتے ہیں۔

مگر بہت زیادہ نمک کے استعمال کو معمول بنانے سے اضافی سیال مسلسل جسم میں برقرار رہتا ہے جس سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے اور گردوں کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے جس سے گردوں کے امراض کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker