چیئر مین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ میرے خیال میں عمران خان نے شہباز شریف کے مقابلے میں اپنا وزارت عظمی کا امیدوار نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے، الیکشن میں پی پی کارکنوں کو شہید کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنائیں گے۔
کراچی کے علاقے نیو کراچی میں 12 سالہ کارکن کے لواحقین سے تعزیت کے بعد گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ اب سنی اتحاد کونسل کو اپنے کارکنان سے سچ بولنا چاہے کیونکہ ان کے پاس قومی اسمبلی میں اکثریت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے شہباز شریف کا راستہ روکا ہی نہیں اور نہ ان کے پاس وہ نمبر ہیں کہ حکومت بناسکیں ،اگر شہباز شریف وزیر اعظم بننے جارہے ہیں تو وہ ہمارا اور پی ٹی آئی کو شکریہ ادا کریں گے، میرے خیال سے خان صاحب نے خود شہبازشریف کے مقابلے میں امیدوار کھڑا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہو گا۔
چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ آئی ایم ایف کو خط لکھنے سے کچھ نہیں ہو گا البتہ پاکستان میں بحران بڑھے گا، جس سے بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافہ ہوگا، اس خط کی بعد عوام کے سامنے ان کا اصل چہرہ بھی سامنے آگیا ہے کیونکہ انہیں ملکی مفاد سے زیادہ اپنی سیاست عزیز ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ کراچی کے ضلع وسطی سمیت دو علاقوں میں الیکشن کے دوران پر تشدد واقعات میں ہمارے دو کارکنان شہید ہوئے اور الٹابارہ سال شہید بچے کے اہل خانہ کے خلاف پرچہ کاٹ دیا گیا ، انتخابی مہم کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی مایوس کن رہی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ سندھ میں حکومت بننے کے بعد ہم ایکشن کے دوران ہونے والے تمام پر تشدد واقعات کی تحقیقات کیلیے جے آئی ٹی تشکیل دیں گے اور ملوث افراد کو قانون کے مطابق عبرت ناک سزا دلوا کر اپنے کارکنان سمیت سب کو انصاف دلوائیں گے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوسکیں ۔
سیاسی جماعتوں کی جانب سے دھاندلی کے الزامات پر بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمیں بتائیں تو سہی کن سیٹوں پر دھاندلی ہوئی، کیا میری لاڑکانہ والی سیٹ پر دھاندلی ہوئی ؟۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں دھاندلی کے الزامات بلیک میلنگ کے لیے لگا رہی ہیں اور ہم اس بلیک میلنگ میں ہر گز نہیں آئیں گے۔



