جسمانی وزن میں تیزی سے کمی لانے کا آسان ترین طریقہ

بس الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال کم از کم کریں۔
یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
لندن کالج یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ گھر کے بنے کھانوں کو ترجیح دینے والے افراد کے جسمانی وزن میں دوگنا سے زیادہ کمی آسکتی ہے۔
واضح رہے کہ الٹرا پراسیس غذائیں تیاری کے دوران متعدد بار پراسیس کی جاتی ہیں اور ان میں نمک، چینی اور دیگر مصنوعی اجزا کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ صحت کے لیے مفید غذائی اجزا جیسے فائبر کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔
الٹرا پراسیس غذاؤں میں ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈز، مٹھائیاں، ٹافیاں، کیک، نمکین اشیا، بریک فاسٹ سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے مشروبات اور سوڈا وغیرہ شامل ہیں۔
ان غذاؤں کو متعدد دائمی امراض جیسے امراض قلب، کینسر اور دیگر سے منسلک کیا جاتا ہے۔
اس تحقیق میں ایک کلینیکل ٹرائل مکمل کیا گیا جس میں 55 افراد کو شامل کرکے انہیں 2 گروپس میں تقسیم کیا گیا۔
آدھے افراد کو 8 ہفتوں کے ایسے غذائی پلان کا حصہ بنایا گیا جس میں پراسیس غذاؤں کا کم از کم استعمال کیا جانا تھا جبکہ دوسرے گروپ کو الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال کرایا گیا۔
دونوں گروپس میں شامل افراد کی غذاؤں کی کیلوریز کی مقدار یکساں تھی۔
ٹرائل کے اختتام پر دریافت ہوا کہ جن افراد کو گھر میں بنی غذاؤں کا زیادہ اور الٹرا پراسیس غذاؤں کا کم از کم استعمال کرایا گیا، ان کے جسمانی وزن میں دوسرے گروپ کے مقابلے میں دوگنا زیادہ کمی آئی۔
محققین نے بتایا کہ ماضی میں ہونے والے تحقیقی کام میں الٹرا پراسیس غذاؤں کو خراب صحت سے منسلک کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ہماری تحقیق کا مقصد غذاؤں سے جسمانی وزن پر مرتب اثرات کی جانچ پڑتال کرنا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تحقیق کے دوران دونوں گروپس کے شامل افراد کے جسمانی وزن میں کمی آئی۔
مگر الٹرا پراسیس غذائیں استعمال کرنے والوں کے جسمانی وزن میں 1.05 فیصد جبکہ دوسرے گروپ کے افراد میں 2.06 فیصد کمی آئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بظاہر 2 فیصد کمی بہت زیادہ بڑی محسوس نہیں ہوتی، مگر یہ صرف 8 ہفتوں کا ٹرائل تھا اور اس میں لوگوں کو غذائی مقدار میں کمی لانے کی ہدایت نہیں کی گئی تھی۔
محققین کے مطابق اگر ایسا ایک سال تک کیا جائے تو ہمارے خیال میں مردوں کے جسمانی وزن میں 13 فیصد جبکہ خواتین کے وزن میں 9 فیصد کمی آسکتی ہے۔
اس کے مقابلے میں الٹرا پراسیس غذائیں استعمال کرنے والے مردوں کے جسمانی وزن میں 4 فیصد جبکہ خواتین کے وزن میں 5 فیصد کمی آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ تو وقت کے ساتھ یہ زیادہ بڑا فرق ثابت ہوگا۔
تحقیق میں شامل افراد سے سوالنامے بھروا کر کھانے کی اشتہا کے بارے میں تفصیلات اکٹھی کی گئی تھیں۔
محققین نے دریافت کیا کہ گھر کے بنے کھانے کے عادی افراد میں خوراک کی اشتہا بھی کم ہوتی ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل نیچر میڈیسن میں شائع ہوئے۔
اس سے قبل دسمبر 2024 میں جرنل نیوٹریشنز میں شائع تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کے زیادہ استعمال سے جسمانی وزن میں بہت تیزی سے اضافہ ہوتا ہے جبکہ جسمانی چربی بھی بڑھتی ہے یا توند نکل آتی ہے۔
تحقیق میں موٹاپے کے شکار 175 افراد کو شامل کیا گیا تھا اور ان سے غذائی عادات کی تفصیلات حاصل کی گئیں۔
ان افراد سے معلوم کیا گیا کہ وہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا کتنا استعمال کرتے ہیں اور پھر اس کا موازنہ بحیرہ روم کے خطے کے رہائشیوں کی غذا Mediterranean ڈائٹ کے اثرات سے کیا گیا۔
اسپین، یونان، اٹلی اور فرانس جیسے ممالک کے شہریوں کی یہ عام غذا پھلوں، سبزیوں، اجناس، گریوں، مچھلی، زیتون کے تیل وغیرہ پر مشتمل ہوتی ہے (سرخ گوشت کا استعمال بہت کم کیا جاتا ہے)۔
تحقیق میں دریافت ہوا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال کرنے والے افراد کا جسمانی وزن بھی زیادہ ہوتا ہے جبکہ Mediterranean ڈائٹ سے جسمانی وزن میں کمی آتی ہے۔
درحقیقت لوگ جتنی زیادہ مقدار میں الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال کرتے ہیں، صحت کے لیے مفید غذاؤں کا استعمال اتنا گھٹ جاتا ہے۔
محققین نے دریافت کیا کہ کچھ الٹرا پراسیس غذاؤں جیسے میٹھے مشروبات یا سوڈا سے جسمانی وزن اور چربی میں دیگر کے مقابلے میں زیادہ اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ تحقیق میں بہت کم افراد کو شامل کیا گیا مگر نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ الٹرا پراسیس غذاؤں بالخصوص میٹھے مشروبات کا استعمال کم از کم کرنا چاہیے تاکہ جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھا جاسکے۔



