انٹرنیشنل

حوثی باغیوں کا خلیج عدن میں ڈچ پرچم والے کارگو شپ پر میزائل حملے کا اعتراف

حوثی باغیوں کا خلیج عدن میں ڈچ پرچم والے کارگو شپ پر میزائل حملے کا اعتراف
🔶 یمن کے ایران نوازحوثی باغیوں نے بدھ یکم اکتوبر کو ڈچ پرچم والے ایک مال بردار بحری جہاز پر میزائل حملے کا اعتراف کر لیا، جس کے بعد اس کارگو شپ کو آگ لگ گئی تھی۔دبئی سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اس وقت یہ بحری جہاز خلیج عدن کے پانیوں میں بے سمت ڈول رہا ہے، لیکن اس پر کیے جانے والے میزائل حملے سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ غزہ پٹی میں اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ میں حماس کے حامی حوثی باغیوں کے پاس کھلے سمندر میں بحری جہازوں پر حملوں کے لیے دستیاب ہتھیار کتنے متنوع ہیں۔
🔶 یمن سے اسرائیل کی طرف حملوں کے ردعمل میں اب تک اسرئیل بھی کئی مرتبہ یمن میں حوثیوں کے ٹھکاوں پر ہلاکت خیز فضائی حملے کر چکا ہے۔گزشتہ برس جون میں حوثی باغیوں کی جاری کردہ ایک ویڈیو سے لی گئی ایک تصویر، جس میں یونان کی ملکیت ایک کارگو شپ کو یمن کے ساحلی علاقے کے پاس بحیرہ احمر میں جلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہےگزشتہ برس جون میں حوثی باغیوں کی جاری کردہ ایک ویڈیو سے لی گئی ایک تصویر، جس میں یونان کی ملکیت ایک کارگو شپ کو یمن کے ساحلی علاقے کے پاس بحیرہ احمر میں جلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے
🔶 اس کارگو شپ پر، جس کا نام ’مینےفیرگراخت‘ ہے، پیر کے روز کیا جانے والا میزائل حملہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران خلیج عدن میں یمن کے حوثی باغیوں کی طرف سے کسی بحری جہاز پر کیا جانے والا ’سنجیدہ ترین‘ حملہ تھا۔
🔶 حوثی باغی اب تک چار بحری جہاز غرقاب کر چکے
یہ سمندری علاقہ بحیرہ احمر سے کچھ ہی دور ہے اور خلیج عدن وہ سمندری علاقہ ہے، جہاں نومبر 2023ء سے لے کر اب تک حوثی باغی مجموعی طور پر چار بحری جہازوں کی غرقابی کا باعث بن چکے ہیں۔
🔶 خلیج عدن کے پانیوں میں یمن کے حوثی باغیوں کے حملے کا ہدف ’روبی مار‘ نامی وہ کارگو شپ جو گزشتہ برس مارچ میں ڈوب گیا تھاخلیج عدن کے پانیوں میں یمن کے حوثی باغیوں کے حملے کا ہدف ’روبی مار‘ نامی وہ کارگو شپ جو گزشتہ برس مارچ میں ڈوب گیا تھا ، حوثیوں کے بقول وہ اپنے ایسے حملوں سے اسرائیل کے اقتصادی مفادات کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
🔶 یمن کے ان ایران نواز باغیوں نے نیدرلینڈز کے پرچم کے ساتھ سفر کرنے والے اس کارگو شپ کو میزائل حملے کا نشانہ ایسے وقت پر بنایا، جب غزہ پٹی کے سب سے بڑے شہری مرکز غزہ سٹی میں اسرائیلی فوج کی زمینی کارروائیوں اور وہاں سے شہری آبادی کے انخلا میں مسلسل شدت آتی جا رہی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker