افریقا کے کم آمدنی والے ملک برکینا فاسو میں پہلی گولڈ ریفائنری کا افتتاح

برکینا فاسو نے دارالحکومت اوآگاڈوگو میں ملک کی پہلی گولڈ ریفائنری کا افتتاح کردیا، جس کا مقصد سونے کو ملک کے اندر صاف کرنا اور اس سے حاصل ہونے والی معاشی قدر کا زیادہ حصہ مقامی سطح پر برقرار رکھنا ہے۔ حکومت نے اس منصوبے کو قدرتی وسائل پر ریاستی کنٹرول بڑھانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق دارالحکومت اوآگاڈوگو میں ریفائنری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فوجی حکومت کے سربراہ ابراہیم ٹراؤرے نے کہا کہ ملک اپنی دھاتوں کو خود صاف کرنا اور سونے سے متعلق پوری ویلیو چین اپنے اندر رکھنا چاہتا ہے۔
برکینا فاسو افریقا کے بڑے سونا پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، تاہم ملک میں سونے کی غیر رسمی کان کنی اور اسمگلنگ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ حکومت کے مطابق غیر قانونی طور پر فروخت ہونے والے سونے سے حاصل ہونے والی کچھ رقم مسلح گروہوں تک بھی پہنچتی ہے۔
برکینا فاسو کئی برس سے القاعدہ اور داعش سے منسلک مسلح گروہوں کے خلاف لڑ رہا ہے اور ملک کے کئی علاقوں میں سیکیورٹی صورتِ حال اب بھی خراب ہے۔
حکومت نے سونے کے شعبے پر اپنا کنٹرول بڑھانے کے لیے دو سال قبل سرکاری ملکیتی کان کنی کمپنی بھی قائم کی تھی۔ اب غیرملکی کان کنی کمپنیوں کے لیے ریاست کو اپنی سرگرمیوں میں 15 فی صد حصہ دینا اور مقامی کارکنوں کو تربیت فراہم کرنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی میں برکینا فاسو کی سونے کی پیداوار میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فی صد اضافہ ہوا۔



