پاکستان

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج؟ وزیراعظم ہاؤس میں اجلاس طلب

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی، ایمرجنسی پلس یا گورنر راج کے نفاذ سے متعلق اہم فیصلے کے لیے وزیراعظم ہاؤس میں کل اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق اجلاس میں تمام متعلقہ شراکت دار شرکت کریں گے اور صوبے کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں خیبرپختونخوا کے حوالے سے حتمی فیصلے کے لیے مختلف آئینی اور انتظامی آپشنز پر غور کیا جائے گا جبکہ قومی سلامتی کے اداروں کی رپورٹس کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق سابق فاٹا کے تمام اضلاع سمیت خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز زیر غور ہے، مجوزہ اقدامات کے تحت صوبے میں عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے اہم اختیارات استعمال کرنے کی تجویز بھی زیر بحث آئے گی۔

اجلاس میں آئین کے آرٹیکلز 232 سے 234 تک کے تحت دستیاب اختیارات اور ان کے قانونی تقاضوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق مشاورت کے بعد اہم فیصلوں کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے، تاہم اجلاس سے قبل کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے تناظر میں اہم مشاورت
خیبرپختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی یا گورنر راج سے متعلق بحث ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب تحریک انصاف کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان کشیدگی کا اہم سبب بنا ہوا ہے۔

تحریک انصاف نے 4 اکتوبر کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کیا تھا۔ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد مارچ کے شرکا نے خیبرپختونخوا سے پیش قدمی کی، جس پر وفاقی حکومت نے امن و امان اور سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے تحفظات ظاہر کیے۔

30 ستمبر کو وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے امکان پر سنجیدگی سے غور کیے جانے کا بیان دیا تھا۔ بعدازاں یکم اکتوبر کو سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے فوری طور پر ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کے بجائے تحریک انصاف کو سیاسی کشیدگی کم کرنے اور لانگ مارچ کے معاملے پر نظرثانی کا موقع دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

گورنر اور وزیراعلیٰ کے درمیان اختلافات بھی شدت اختیار کر گئے
خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان صوبے کی سکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی اور وفاقی حکومت کے کردار پر اختلافات بھی سامنے آ چکے ہیں۔

4 اکتوبر کو گورنر فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ملاقات میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال اور تحریک انصاف کے لانگ مارچ پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

گورنر ہاؤس کے سرکاری اعلامیے کے مطابق، ملاقات میں اس امکان پر بھی بات ہوئی کہ اگر صدر اور وزیراعظم ضروری سمجھیں تو دہشت گردی اور بدامنی سے نمٹنے کے لیے گورنر راج یا ایمرجنسی کے آئینی آپشن پر عمل کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی وفاقی حکومت کی سکیورٹی پالیسی پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے صوبے میں مزید فوجی آپریشنز کی مخالفت کر چکے ہیں۔ انہوں نے گورنر کے بعض اقدامات پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں۔

آئین کے تحت کیا اقدامات ممکن ہیں؟
آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایسی سنگین داخلی بدامنی کی صورت میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اختیار موجود ہے جو صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو، جبکہ آرٹیکل 234 اس صورت میں متعلقہ ہے جب صوبے میں آئینی نظام کے مطابق حکومت چلانا ممکن نہ رہے۔ دونوں صورتوں کے لیے الگ آئینی شرائط اور طریقہ کار موجود ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کے مجوزہ اجلاس میں سکیورٹی اداروں کی رپورٹس، صوبے کی انتظامی صورتحال اور دستیاب آئینی آپشنز کا جائزہ لے کر آئندہ حکمت عملی طے کی جائے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker