
کوئٹہ کی چائے — روایت، ذائقہ اور شہر کی پہچان
کوئٹہ کی چائے صرف چائے نہیں بلکہ ایک روایت، ایک محبت اور ایک ایسی پہچان ہے جس نے اس شہر کو پورے پاکستان میں منفرد مقام دیا ہے۔ موسم بدل چکا ہے، سردیوں کی شدت پہلے جیسی نہیں رہی۔ نومبر، دسمبر، جنوری اور فروری کے پہلے ہفتے تک سردی رہتی ہے، لیکن چائے کا مزہ، چائے کی خوشبو اور چائے کی چاہت آج بھی ویسی کی ویسی ہے۔ کوئٹہ کے لوگ تو چائے سے لوگوں کی پہچان تک کر لیتے ہیں — کون شیدو چائے پسند کرتا ہے، کون طور چائے، کون ترخی چائے، کون سبز چائے اور کون لیمن گراس!
یہی وجہ ہے کہ چائے یہاں صرف پینے کی چیز نہیں بلکہ زندگی کا لازمی حصہ ہے۔
شیدو چائے — دودھ والی چائے
کوئٹہ میں دودھ والی چائے کو پشتو میں شیدو چائے کہا جاتا ہے۔ اس کا ذائقہ گاڑھا، خوشبودار اور بھرپور ہوتا ہے۔ کسی بھی ہوٹل پر جائیں، آپ کو یہ چائے سب سے زیادہ آرڈر ہوتی نظر آئے گی۔ سردیاں ہوں یا گرمی، شیدو چائے کی طلب ہمیشہ ایک جیسی رہتی ہے۔ اس میں دودھ کی مقدار زیادہ اور پتی کی مقدار تیز رکھی جاتی ہے، جس سے اس کا ٹیسٹ مزید گہرا ہو جاتا ہے۔
طور چائے — کالی چائے کا کوئٹہ انداز
کالی چائے کو یہاں طور چائے کہا جاتا ہے۔ اس میں دودھ نہیں ڈالا جاتا اور چینی عام چائے سے زیادہ رکھی جاتی ہے۔ طور چائے نہ صرف ہلکی ہوتی ہے بلکہ کھانے کے بعد اسے زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ بوڑھے، جوان، طالب علم، دکاندار — سب کے لیے یہ چائے اپنی جگہ رکھتی ہے۔
ترخی چائے — بغیر میٹھے کی چائے کا خاص ذائقہ
کوئٹہ میں بغیر چینی کی چائے کو ترخی چائے کہا جاتا ہے۔ یہ چائے ایسے لوگ پسند کرتے ہیں جو میٹھا کم کھاتے ہیں یا صحت کی وجہ سے چینی نہیں لیتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لوگ چائے کو بغیر میٹھے بنواتے ہیں، پھر ساتھ رکھ کر گڑ، کھوپرا ٹافیاں، مخانے یا میٹھی ٹافیاں چائے کے ساتھ کھاتے ہوئے چائے کا ذائقہ بڑھاتے ہیں۔ یہ ایک الگ ہی انداز ہے۔
لیمن گراس چائے — خوشبو اور ہلکا ذائقہ
کوئٹہ میں لیمن گراس چائے پچھلے چند سالوں سے بہت مقبول ہوئی ہے۔ اس کی خوشبو بڑی تیز اور ذائقہ ہلکا ہوتا ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل اسے زیادہ پسند کرتی ہے۔ بعض ہوٹلز نے لیمن گراس چائے کو اپنی شناخت بھی بنا لیا ہے۔
کوئٹہ ہوٹل — ایک برینڈ کی شکل
چائے جب اتنی مقبول ہو تو بنانے والے پیچھے کیسے رہیں؟ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کے ہر بڑے شہر میں "کوئٹہ ہوٹل” کے نام سے درجنوں ہوٹلز کھل چکے ہیں۔ یہ صرف چائے بیچنے کا نام نہیں، بلکہ ایک برینڈ بن چکا ہے۔
کراچی کا صدر، لی مارکیٹ، کلفٹن، لاہور کی لبرٹی، گلبرگ، لکشمی چوک، ملتان کا گھنٹہ گھر، فیصل آباد کا چنیوٹ بازار، پنڈی کا صدر، پشاور کا قصہ خوانی بازار — ہر جگہ کوئٹہ ہوٹل کی چائے اپنی مثال آپ ہے۔
ان ہوٹلز پر کام کرنے والے زیادہ تر افراد کا تعلق پشن، قلعہ عبداللہ اور کوئٹہ سے ہوتا ہے۔

کوئٹہ کے مشہور ہوٹلز — جہاں چائے صرف چائے نہیں
کوئٹہ میں بے شمار ہوٹلز ہیں جنہوں نے چائے کی وجہ سے شہرت پائی۔ ان میں سے چند مشہور نام یہ ہیں:
گوبر ہوٹل — کلی اسماعیل
کفیے سعیدہ — ائیرپورٹ روڈ
فاران ہوٹل — لیاقت بازار
شالیمار ہوٹل — ریلوے اسٹیشن
میر ہوٹل — جائنٹ روڈ
A-One ہوٹل — بازار
سخی ہوٹل — عالمو چوک
چائے کڈہ — پانی تقسیم چوک
شہباز ٹاؤن کے چائے پوائنٹس
جناح ٹاؤن کے کیفے اور ہوٹلز
بلوچستان بورڈ کے ساتھ چائے پوائنٹ
اسپنی روڈ بائی پاس کے نئے ہوٹلز
ان میں سے ہر ایک کا اپنا انداز، اپنا ذائقہ اور اپنی خاصیت ہے۔
پراٹھے — کوئٹہ ہوٹلز کی شان
کوئٹہ ہوٹل ہو اور پراٹھا نہ ہو… یہ ممکن ہی نہیں!
چائے کے ساتھ گرم پراٹھے کوئٹہ کی پہچان بن چکے ہیں۔ خاص طور پر سردیوں میں چائے اور پراٹھے کا کمبی نیشن لاجواب ہوتا ہے۔
زیادہ تر کوئٹہ ہوٹلز 24 گھنٹے کھلے رہتے ہیں اور مختلف شفٹوں میں کام ہوتا ہے تاکہ لوگ ہر وقت گرم چائے اور پراٹھے کا مزہ لے سکیں۔

آپ کی رائے — کون سی چائے پسند ہے؟
آخر میں باری آپ کی ہے۔
آپ ہمیں بتائیں:
آپ کو کون سی چائے پسند ہے؟
شیدو، طور، ترخی یا لیمن گراس؟اور سب سے اہم…
آپ کے خیال میں کوئٹہ کی سب سے بہترین چائے کہاں ملتی ہے؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔ یہ نہ صرف ہماری معلومات میں اضافہ کرے گی بلکہ قارئین کے لیے بھی رہنمائی ثابت ہوگی۔



