اسرائیل نے غزہ سٹی میں زمینی کارروائیاں شروع کردیں

اسرائیلی افواج نے بدھ کے روز غزہ سٹی میں اپنی زمینی کارروائیاں تیز کردی ہیں، یہ غزہ کا وہ علاقہ ہے جہاں گزشتہ روز سے مسلسل اور شدید فضائی بمباری جاری ہے تاہم فضائی بمباری میں کم از کم 13 فلسطینی شہید ہوگئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
غزہ جو دو برس سے جاری جنگ کے باعث کھنڈر میں بدل چکا ہے اور شدید قحط کا شکار ہے، وہاں اب بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ’’حماس کے فوجی ڈھانچے کو تباہ کرنا‘‘ ہے۔ اسرائیلی فوج نے منگل سے شروع ہونے والی تازہ کارروائی کے لیے کوئی ٹائم لائن نہیں دی تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آپریشن کئی ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔
غزہ سٹی جہاں کبھی 10 لاکھ افراد بستے تھے، یہاں سے بڑی تعداد میں لوگ اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کے احکامات کے بعد جنوبی غزہ کی طرف نقل مکانی کی کوشش کر رہے ہیں۔
غزہ کے اسپتال حکام نے بتایا کہ رات گئے اسرائیلی فضائی حملوں میں 13 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ ہلاکتوں میں نصف سے زائد افراد کا تعلق غزہ سٹی ہر سے ہے۔
شفا اسپتال کے مطابق شاہتی پناہ گزین کیمپ میں ایک اپارٹمنٹ پر حملے میں ایک ماں اور اس کا بچہ ہلاک ہوا۔ مرکزی غزہ میں الواہدہ اسپتال نے اطلاع دی کہ نصیرات پناہ گزین کیمپ میں ایک مکان پر حملے میں 3 افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل تھی۔



