عمر میں اضافے کے ساتھ آپ کو جوان رکھنے میں مددگار غذائیں
عمر میں اضافے کے ساتھ بیشتر افراد کو فکر ہوتی ہے کہ وہ بوڑھے نظر نہ آنے لگے۔

دنیا بھر میں لوگ ہر سال جِلدی نگہداشت سے جڑی مصنوعات پر 150 ارب ڈالرز خرچ کرتے ہیں۔
ویسے تو سورج کی روشنی اکثر بڑھاپے کی علامات کو نمودار کرنے کا باعث بنتی ہے اور سن اسکرین کا استعمال ضروری ہے۔
مگر غذا بھی اس حوالے سے اہم ہوتی ہیں۔
تو ایسی غذاؤں کے بارے میں جانیں جو عمر میں اضافے کے ساتھ آپ کو جوان رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔
مچھلی
مچھلی میں صحت کے لیے مفید چکنائی بالخصوص اومیگا 3 فیٹی ایسڈز موجود ہوتے ہیں۔
یہ فیٹی ایسڈز جِلد کی صحت کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں۔
ان سے جِلد کو سورج سے پہنچنے والے نقصان اور ورم سے تحفظ ملتا ہے جبکہ جِلد ہموار رہتی ہے۔
یہ فیٹی ایسڈز جِلد کی مرمت کرتے ہیں اور اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کی کمی سے جِلد خشک ہو جاتی ہے۔
بیریز
بیریز اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہیں۔
اینٹی آکسائیڈنٹس جسم میں گردش کرنے والے اس مضر مواد کے تکسیدی تناؤ کا مقابلہ کرتے ہیں جو جِلد کو خشک، روکھا اور بوڑھا بناتا ہے۔
بیریز میں موجود وٹامن سی اور نباتاتی مرکبات فلیونوئڈز کا امتزاج اس حوالے سے معاونت فراہم کرتا ہے۔
اسٹرا بیری کو جِلد کی صحت کے لیے زیادہ بہتر مانا جاتا ہے جبکہ اس کے بعد بلیو بیریز اور بلیک بیریز کو بہترین قرار دیا جاتا ہے۔
شکر قندی
شکر قندی میں وٹامن اے موجود ہوتا ہے جو جسم میں جاکر بیٹا کیروٹین میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
بیٹا کیروٹین جِلد کی صحت بہتر بنانے کے لیے اہم ہوتا ہے اور سورج سے جِلد پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کی روک تھام کرتا ہے۔
بیریز کی طرح شکر قندی میں ورم کش اینٹی آکسائیڈنٹس موجود ہوتے ہیں۔
سبز پتوں والی سبزیاں
سز پتوں والی سبزیاں وٹامن K اور سی سے بھرپور ہوتی ہیں۔
پالک، ساگ اور دیگر سبزیوں میں ایسے نباتاتی مرکبات موجود ہوتے ہیں جو اینٹی آکسائیڈنٹس کا کام کرکے جِلد کو جسم میں گردش کرنے والے مضر مواد سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
گریاں، بیج اور پھلیاں
گریاں، بیجوں اور پھلیوں میں شامل غذاؤں کا استعمال جِلد کی صحت کو بہتر بناتا ہے۔
وٹامن ای سے جِلد کو ہموار رکھنے میں مدد ملتی ہے جبکہ ان میں موجود فیٹی ایسڈز سے سورج سے پہنچنے والے نقصان سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔
ان کے استعمال سے جِلد کی رنگت کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملتی ہے جبکہ جھریاں کم نمودار ہوتی ہیں اور جِلد کی لچک بڑھتی ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق روزانہ کچھ بادام کھانے سے جھریاں کم ہوتی ہیں اور جِلد کی رنگت بہتر ہوتی ہے جبکہ السی کے بیج اور اخروٹ میں موجود فیٹی ایسڈز بھی اس حوالے سے مفید ثابت ہوتے ہیں۔
ٹماٹر
ٹماٹروں میں لائیکو پین نامی بیٹا کیروٹین موجود ہوتا ہے۔
یہ بیٹا کیروٹین گریپ فروٹ، انار، سرخ شملہ مرچ اور انجیر میں بھی پایا جاتا ہے۔
اس کے استعمال سے جسم کے اندر تکسیدی تناؤ اور ورم گھٹ جاتا ہے اور اس ہارمون کی سطح بڑھتی ہے جو جِلد کو ہموار رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
کچے کے مقابلے میں پکے ہوئے ٹماٹروں میں لائیکو پین زیادہ ہوتا ہے۔
ڈارک چاکلیٹ
ڈارک چاکلیٹ کا استعمال بھی جِلد کو عمر میں اضافے سے مرتب ہونے والے اثرات سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔
اس میں فلیونولز نامی اینٹی آکسائیڈنٹس موجود ہوتے ہیں اور تحقیقی رپورٹس کے مطابق ان سے جِلد کی لچک بڑھتی ہے جبکہ جھریوں کی گہرائی میں کمی آتی ہے۔
اسی طرح چاکلیٹ مشروب پینے سے خون کی روانی میں اضافہ ہوتا ہے جس سے بھی جِلد کی صحت بہتر ہوتی ہے۔
تربوز
تربوز بھی لائیکو پین سے بھرپور ایک پھل ہے جو جِلد میں تکسیدی تناؤ کم کرتا ہے۔
یہ وٹامن سی کے حصول کا بھی اچھا ذریعہ ہے جو کولیگن اور elastin نامی ہارمونز کی سطح کو بڑھاتا ہے۔
اس سے سورج سے پہنچنے والے نقصان سے تحفظ ملتا ہے جبکہ جِلد کی نمی برقرار رہتی ہے۔
تربوز میں پانی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے اور مناسب مقدار میں پانی کا استعمال جِلد کے لیے بہتر ہوتا ہے۔
سبز چائے
سبز چائے میں فلیونولز کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے۔
تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ ای جی سی جی نامی فلیونولز جِلد کو الٹرا وائلٹ شعاعوں سے پہنچنے والے نقصان سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔
روزانہ 4 کپ سبز چائے پینے سے جِلد کی نمی اور لچک کو محفوظ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔



