پاکستان

ہندو مسلم جدا قومیں ہیں: مصنف : پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی

ہندو مسلم جدا قومیں ہیں
ہندوستان کے ہندو اور مسلمان کے لباس میں بڑا فرق تھا۔ ہندو مرددھوتی یا خاص قسم کی شلوار پہنتے۔سر پر خاص گول قسم کی ٹوپی،ماتھے پر سرخ تلک کانشان ،سرمنڈا ہوا مگر سر کے درمیان چند لمبے بال جسے ہم بودی کہتے تھے، وہ رکھتے تھے۔عورتوں کا خاص لباس ریشمی،پتلا(باریک) ہوتا تھا۔ مسلمان غریب تھے،ان کالباس موٹا کپڑا ہوتا تھا۔ویسے ہر علاقے کا لباس علیٰحدہ موسم کے اعتبارسے تھا ۔عورتوں کے سر کے بال لمبے ہوتے تھے۔ وہ خاص ترتیب سے رکھتی تھیں۔خوشحال گھرانے کی مسلمان عورتیں سفید برقعہ اوڑھتی تھیں اور عام عورتیں رنگدار بڑی چادر جسے شال کہتے اوڑھتی تھیں۔مسلمان عورت ہر لحاظ سے اپنے آپ کو ڈھانپتی تھی۔ مسلمان عورتیں مہندی اپنے ہاتھوں پر لگاتی تھیں جو ہندوعورتوں سے مختلف تھیں۔ اچھے مسلمان گھروں کے دروازے پر چک یا بوری کا پردہ ہوتا تھا جس سے ظاہر ہوتا کہ یہ مسلمان کا گھر ہے۔ مسلمان کے چہرے پر داڑھی ہوتی تھی۔ لہٰذاہندو اور مسلمان کے لباس میں دوقومی نظریہ موجود تھا۔ کھانا جدا،کھانے کے طریقے جدا تھے۔ مسلمانوں کی خوراک میں گائے بھینس بکرے کا گوشت شامل ہوتا تھا۔ خاص قسم کا شوربہ ہوتا تھا۔ مسلمانوں کی گندم یا مکئی کی روٹی تندور پر پکتی تھی وہ بڑی ہوتی تھی۔ ویسے اکثر مسلمان ساگ، چٹنی،لسی سے بھی روٹی کھاتے تھے۔ پلاﺅ میں بھی گوشت شامل تھا۔ مسلمان عید قربان کے موقع پر گائے کی قربانی دیتے تھے۔ ہندو گائے کو پوجتے تھے۔ کئی علاقوں میں گائے کی قربانی یا ذبیح کے موقع پر ہندومسلمان جھگڑے ہوتے ۔
گویا ہندو مسلمان کا لباس،ظاہری شکل ،چلنا پھرنا، بیٹھنا جدا تھا۔ مسلمانوں کے بیٹھنے کاطریقہ جدا تھا۔ ملاقات کے وقت ہندوہاتھ جوڑ کرمہاراج کہہ کر ،جھک کرسلام کرتا ہے۔ جبکہ مسلمان اسلام علیکم کہتے ہیں۔ دونوں کے عبادت کے طریقے جدا ہیں۔ہندو کی عبادت گاہ کو مندر کہتے ہیں جبکہ مسلمانوں کی عبادت گاہ کو مسجد کہتے ہیں۔ مند ر کی بناوٹ، ساخت،زیبائش،چھتیں جدا ہیں۔ ہندو پتھر کے بت تیار کرتے ہیں۔ اُسے غسل یعنی اشنان دیا جاتا ہے۔ کپڑے خاص پہنائے جاتے ہیں۔اگربتیاں جلائی جاتی ہیں اور ان بتوں سے مدد مانگی جاتی ہے۔ ہفتہ والے دن حلوہ بچوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ہم بچپن میں مندر چلے جاتے اور حلوہ کھا لیتے تھے۔مسلمانوں کی حلوائی کی دکانیں ہندو کی مٹھائی کی دکانوں سے مختلف ہوتی تھیں۔ دور سے پتہ چلتاکہ ہندو کی دکان ہے یا مسلمان کی دکان ہے۔
مسلمان ہندو کے برتن میں نہ تو کھا سکتا تھا نہ پانی ،دودھ ،چائے،لسی پی سکتا تھا۔ ہندو مسلمان کے برتن سے خوراک نہیں لے سکتا تھا۔تقسیم ہند سے قبل کٹرہندو سبزی فروخت کرنے والے ہمارے ہاتھوں سے اپنی سبزی کی قیمت نہیں لیتے تھے۔ہندو دکاندار کی دکان پر سبزی خریدنے جاتے وہ دور سے ہمیں سبزی دیتا اور رقم ہاتھ میں لینے کی بجائے برتن آگے کردیتا ہم رقم اس برتن میں ڈالتے۔ ہندو کے نل سے مسلمان پانی نہیں لے سکتا تھا۔ ہر گلی میں کمیٹی کی طرف سے پینے کے پانی کے نل لگے ہوئے ہوتے تھے۔ مسلمان اپنے برتن لائن میں رکھتے اور باری باری پانی بھرتے اور ہندو کے نل سے پانی نہیں لے سکتے تھے۔کسی مسلمان کے گھر میں ، شہرکی کمیٹی کا پانی پینے کا نل نہ تھا۔سب لوگ گلی کے نل سے پانی بھرتے تھے۔ ہندو کے نہانے کے طریقے مسلمان سے مختلف تھے اور مسلمان کے غسل کرنے کے طریقے جدا تھے۔
ہندو کے مکانات پکے ہوتے تھے۔ چھوٹے چھوٹے کمرے ہوتے تھے۔ ہندو پتھروں اور اینٹوں سے عمارتیں کھڑی کرتے جبکہ مسلمانوں کے کچے مکانات تھے۔ مکانات کی چھتوں پر پرنالے تھے اور بارشوں کے دنوں میں گلیاں خراب ہوجاتیں۔ مسلمانوں کی بودوباش،لباس،برتن ، خوراک،عبادت گاہیںہندو سے جُدا تھیں۔گویا ہندو ہندو اور مسلمان مسلمان تھا۔
ہندو کی موت کی رسم جدا ،اگر کوئی بوڑھا ہندو آدمی مرجاتا،تو تمام گھر کی اشیاءکو الٹا کرلیتے۔چارپائی اُلٹی اور گھر کے سربراہ اپنے سر کے بال اُسترے سے صاف کرواتے، آنکھوں کی بھنوﺅں کے بال تک اُترواتے اور عورتیں خاص قسم کے بین کھڑے ہو کر کرتی تھیں اور ہندو کی میت کوطبلہ اور ہارمونیم کے سازکے ساتھ جلانے والی جگہ لے جاتے اور ساتھ ا س کی میت کو سونے کی سیڑھی پر رکھتے۔ہر ہندو مردوزن کو مرنے کے بعد چتا میں جلایا جاتا ہے اور لکڑیوں میں آگ قریبی رشتہ دار لگاتا ہے۔جب میت جل کر راکھ ہو جاتی ہے تو اس راکھ کو گنگاجمنامیں بہایا جاتا ہے۔میت کے جلانے کے بعد جب واپس گھر آتے،کرشناسچے،رام سچے،ہم بچے کہتے تھے،ساتھ اپنے ہاتھوں سے کچھ اشارے کرتے تھے۔ہندو مذہب میں ایک نرالی منطق ہے کہ مرنے کے بعد جلانے کے بعد دوبارہ کسی دوسرے شخص میں اس کی روح آجاتی ہے۔ عجیب و غریب قسم کے خیالات اور اعتقادات ہیں۔ موت کے بعد مسلمان کو قبرستان میں لے جانے سے قبل غسل دیا جاتا ہے۔ اسے عزت کے ساتھ کفن پہنایا جاتاہے۔ ادویات بھی لگائی جاتی ہیں اور قبر میں دفن کیا جاتا ہے۔اسلام صفائی کا مذہب ہے۔ اسلام کے ہر اُصول میں ماحول کی حفاظت ہے تاکہ کسی دوسرے شخص کو تکلیف نہ ہو۔
اسلام میں جگہ جگہ تھوکنا منع ہے کیونکہ اس میں جراثیم ہوتے ہیں۔تپ دق کے جراثیم بھی ہوتے ہیں مگر ہندوصبح اُٹھتے ہیں ۔ہاتھ میں داتن پکڑتے ہیں،باہر سیر کو جاتے ہیں۔ساتھ رام رام کرتے ہیں اور تھوکتے جاتے ہیں۔یہ ساری چیزیں ہم نے تقسیم ہند سے قبل دیکھ رکھی ہیں۔ ہمارا گھر ہندومحلہ میں تھا۔ ہمارا سکول سناتن دھرم ہائی سکول تھا۔ مجھے بھارت بین الاقومی کانفرنسزمیں جانے کا اتفاق ہوا۔1987ءمیں مدارس کے ہسپتال گیا۔ وارڈ میں داخل ہونے لگا۔ ایک دروزاہ کے ساتھ ایک پتھر کا بت سجایا ہواتھا۔سٹاف نرس سے پوچھا یہ کیاہے؟اس نے جواب دیا”گنیش“وہ کیا ہے؟جواب دیا ہماراخدا ہے۔۔ گویا ہم آزادی وطن سے پہلے ہی دوقومی نظریہ سے واقف تھے۔ہندو کی ہر ادا،طریقہ، سوچ،عمل مسلمانوں سے جدا ہے۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker