ایرانی حملوں کے باعث خطے میں امریکی اڈے ناقابل رہائش بن گئے، فوجی ہوٹلوں میں منتقل ہونے پر مجبور: امریکی اخبار

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ ایران نے امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں پورے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر بمباری کی جس کے باعث بڑی تعداد میں امریکی فوجیوں کو خطے بھر میں ہوٹلوں اور دفتری عمارتوں میں منتقل ہونا پڑا۔
اخبار کے مطابق اس صورتحال کے بعد زمینی فوج کا بڑا حصہ عملی طور پر ریموٹ انداز میں جنگ لڑ رہا ہے جبکہ صرف لڑاکا طیاروں کے پائلٹس اور طیاروں کی دیکھ بھال کرنے والا عملہ فوجی اڈوں پر موجود ہے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے بھی ان بکھرے ہوئے امریکی فوجیوں کی تلاش کے لیے عوام سے ان کے نئے مقامات کی اطلاع دینے کی اپیل کی ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق فوجیوں کو عارضی جگہوں پر منتقل کرنے سے ٹرمپ انتظامیہ کی جنگی تیاریوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کا ایرانی فضائی حدود میں ایف 18 سمیت دو امریکی جنگی جہاز مار گرانے کا دعویٰ
خطے میں امریکی فوج کے زیر استعمال 13 فوجی اڈوں میں سے اکثر اب قابلِ رہائش نہیں رہے جبکہ ایران کے ہمسایہ ملک کویت میں واقع اڈوں کو شاید سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ کویت کے پورٹ شویبہ پر ایرانی حملے میں امریکی فوج کے ایک ٹیکٹیکل آپریشنز سینٹر کو تباہ کیا گیا تھا جس میں 6 امریکی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
ایرانی ڈرونز اور میزائلوں نے کویت میں علی السالم ائیر بیس کو بھی نشانہ بنایا جہاں طیاروں کو نقصان پہنچا اور کئی اہلکار زخمی ہوئے جبکہ کیمپ بیورنگ میں مرمت اور ایندھن کی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
قطر میں ایران نے العدید ائیر بیس جو امریکی سینٹرل کمانڈ کا علاقائی فضائی ہیڈکوارٹر ہے، کو نشانہ بنایا جس سے ارلی وارننگ ریڈار سسٹم متاثر ہوا۔ بحرین میں ایک ایرانی ڈرون نے امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر میں مواصلاتی آلات کو نشانہ بنایا۔ سعودی عرب کے پرنس سلطان ائیر بیس پر بھی ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے مواصلاتی نظام اور کئی ری فیولنگ ٹینکرز کو نقصان پہنچایا۔
جنگ کے ابتدائی مرحلے میں عراق میں ایران نواز ملیشیا نے اربیل کے ایک پر تعیش ہوٹل پر ڈرونز کے جھنڈ کے ذریعے حملہ کیا۔



