Sind

محکمہ خوراک سندھ کے گوداموں میں اربوں روپے کی گندم خراب ہونے کا انکشاف

کراچی کے علاقہ لانڈھی میں محکمہ خوراک سندھ کے گوداموں میں اربوں روپے کی گندم خراب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

یہ گندم کراچی کے شہریوں کو سستے آٹے کی فراہمی کے لیے خریدی گئی تھی لیکن بدانتظامی کے باعث یہ انسانوں کے استعمال کے قابل نہیں رہی۔

ذرائع کے مطابق گندم کی بوریاں دو سے تین سال قبل گوداموں میں رکھی گئی تھیں اور 2021 سے اب تک اسے استعمال میں نہیں لایا جا سکا۔

محکمہ خوراک کے ذرائع نے بتایا کہ 2021 سے پہلے بھی گوداموں میں لاکھوں بوریاں موجود تھیں۔

گندم کی خریداری اور اس کی دیکھ بھال پر سندھ حکومت اربوں روپے خرچ کر چکی ہے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ گوداموں میں گندم کی دیکھ بھال پر ماہانہ 2 ارب 43 کروڑ روپے کے اضافی اخراجات کا خدشہ ہے۔

محکمہ خوراک سندھ نے کاشتکاروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے گندم کو مارکیٹ ریٹ سے زیادہ قیمت پر خریدا جہاں مارکیٹ میں گندم کی قیمت 7 ہزار روپے فی بوری تھی وہاں محکمہ نے 10 ہزار روپے فی بوری کے حساب سے سپورٹ پرائس پر خریداری کی۔

تاہم، اگر اس گندم کو ساڑھے 7 ہزار روپے فی بوری کے حساب سے فروخت کیا گیا تو سندھ حکومت کو 80 ارب روپے کا نقصان ہوگا۔

مشیر برائے خوراک سندھ عبد الجبار نے دعویٰ کیا کہ 2022-23 میں خریدی گئی گندم گوداموں میں مکمل طور پر محفوظ ہے اور خراب ہونے والی گندم 2021 سے پہلے کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خراب ہونے والی گندم کی صحیح مقدار اور مالیت فوری طور پر نہیں بتائی جا سکتی لیکن اسے انسانوں کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ رواں مالی سال میں گندم نہ خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker