پاکستان

پشاور سانحہ، جاں بحق بچوں کی اجتماعی نماز جنازہ ادا ، وزیراعظم کا نوٹس، ذمہ داران کیخلاف سخت کارروائی کا حکم

خیبر پختونخوا میں پشاور کے علاقے دیر کالونی میں سکول کی عمارت منہدم ہونے کے المناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی ہے جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دلخراش واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مکمل رپورٹ طلب کی ہے اور ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا ہے۔

پشاور کے علاقہ دیر کالونی میں اسکول کی عمارت گرنے کے اس دلخراش حادثے میں جان کی بازی ہارنے والے بچوں کی اجتماعی نمازِ جنازہ انتہائی رقت آمیز ماحول میں ادا کی گئی۔اس موقع پر فضا شدید سوگوار رہی جبکہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے اہل خانہ اور تمام لواحقین غم سے نڈھال رہے۔ اس المناک موقع پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، علاقہ معززین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔

وزیراعظم شہباز شریف کا نوٹس اور رابطہ

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کے اس افسوسناک واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے مکمل رپورٹ طلب کر لی ہے اور حادثے میں زخمی ہونے والوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی خصوصی ہدایت کی ہے۔

اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا۔ٹیلی فونک گفتگو کے دوران وزیراعظم نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد اور معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

اس دوران گورنر خیبرپختونخوا نے وزیراعظم کو حادثے کی تمام تفصیلات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ غفلت کے ذمہ دار اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا عمل بھی شروع کردیا گیا ہے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے واقعے کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لینے اور اس سانحے کے ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی کو ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے کہ پشاور کی دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے 2خاتون ٹیچر سمیت 35افراد جاں بحق جبکہ 53 افراد زخمی ہوگئے، جاں بحق بچوں میں 6 بچیاں بھی شامل ہیں۔3 منزلہ اسکول میں ملبے تلے دبنے والوں افراد کو ریسکیو کرنے کا عمل مکمل کرلیا ہے، دوسری جانب اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker