وزارتِ مواصلات میں 2 سال کے دوران 222 ارب روپے سے زائد مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف
وزارتِ مواصلات میں 2 سال کے دوران 222 ارب روپے سے زائد مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق بے قاعدگیاں مالی سال 2022 اور مالی سال 2033 میں وزارتِ مواصلات کے معاملات سے متعلق رپورٹ کی گئیں۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق دھوکہ دہی، چوری اور ڈکیتی کے 40 کیسز میں 4 کروڑ 88 لاکھ روپے جبکہ بھرتیوں سے متعلق 4 کیسز میں 2 ارب 73 کروڑ روپے کی بے قاعدگیاں سامنے آئیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان پوسٹل سروسز میں خالی آسامیوں پر بھرتیوں کی اجازت دی گئی، نگران دور میں گریڈ ایک سے 15 تک 4 ہزار 252 بھرتیاں کی گئیں اور 314 افراد کو قواعد کے برعکس سیاسی بنیادوں پر بھرتی کیا گیا۔
آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا کہ خریداری کے 5 کیسز میں خزانے کو 3 ارب 26 کروڑ روپے سے زائد نقصان پہنچا جبکہ کمرشل بینک سے غیر مجاز انتظامی معاملات میں 20 ارب 85 کروڑ روپے کانقصان ہوا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان پوسٹ نے مقررہ تعداد سے زیادہ اکاؤنٹس کھولے، اکاؤنٹس میں 20 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئی۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق ایک اور کیس میں خزانے کو 49 کروڑ 25 لاکھ روپے نقصان پہنچا، 11 مختلف کیسز میں 3 ارب 74 کروڑ روپے سے زائد وصولیوں کی نشاندہی ہوئی جبکہ 15 دیگر کیسز میں 194 ارب 54 کروڑ روپے سے زائد مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا۔



