ایپل کمپنی کا نام رکھنے اور اس کے کھائے ہوئے سیب کے لوگو کی دلچسپ کہانی جانیں

اگر اسکرین پر ایک ایسا سیب نظر آئے جس کے دائیں جانب کے حصے میں چبانے کا نشان ہو تو ذہن میں فوری طور پر ایپل کمپنی کا خیال آتا ہے۔
کھایا ہوا سیب ایپل کا لوگو (logo) ہے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ دنیا بھر کی سب سے معروف ٹیکنالوجی کمپنی ہے جس کے آئی فونز اور دیگر ڈیوائسز کو بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔
درحقیقت اب یہ محض ہارڈ وئیر تیار کرنے والی کمپنی نہیں رہی بلکہ دنیا بھر میں ثقافتی علامت بن گئی ہے۔
اس کا سادہ لوگو دنیا بھر میں سب سے پہچانے جانے والا نشان ہے۔
مگر متعدد افراد کو اس لوگو کا مطلب معلوم نہیں بلکہ یہ بھی نہیں جانتے کہ آخر کمپنی کا نام ایپل کیوں رکھا گیا۔
اس لوگو کے حوالے سے کئی خیالات موجود ہیں مگر حقیقت کافی سادہ ہے۔
ویسے یہ جان لیں کہ ایپل کا سب سے پہلا لوگو 1976 میں جاری کیا گیا تھا جس میں سائنسدان آئزک نیوٹن کو سیب کے ایک درخت کے نیچے بیٹھا ہوا دکھایا گیا تھا۔
جیسا سب کو معلوم ہے کہ آئزک نیوٹن نے کشش ثقل کا خیال اس وقت پیش کیا تھا جب وہ ایک سیب کے درخت کے نیچے بیٹھے تھے اور پھل ان کے اوپر آگرا تھا۔
کچھ افراد کا ماننا ہے کہ آئزک نیوٹن سے متاثر ہوکر کمپنی کا نام ایپل رکھا گیا۔
مگر ایپل کے شریک بانی اسٹیو جابز نے ان کی سوانح حیات لکھنے والے والٹر اساکسون کو بتایا تھا کہ نام رکھنے کی وجہ کافی دلچسپ ہے۔
اسٹیو جابز کے مطابق انہیں کمپنی کے اس نام کا خیال اس وقت آیا جب وہ صرف پھلوں کو غذا کے طور پر کھاتے تھے اور انہیں سیب کے ایک باغ میں جانے کا موقع ملا۔
اس موقع پر انہیں کمپنی کا نام ایپل رکھنے کا خیال اچھا محسوس ہوا اور بعد ازاں ان کے شراکت دار اسٹیو ووزینک آئزک نیوٹن کی کہانی کے ساتھ آگے آئے اور اسے لوگو کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔
ایپل کا موجودہ لوگو 1977 میں جاری کیا گیا تھا جس میں سیب کا دائیں جانب کا حصہ کھایا ہوا نظر آتا ہے۔
روب جانوف نامی ڈیزائنر نے ایپل کا لوگو ڈیزائن کیا تھا۔
2009 میں ایک انٹرویو کے دوران روب جانوف نے ایپل کے لوگو سے متعلق تمام کہانیوں کو مسترد کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ آئزک نیوٹن یا کسی اور سے متاثر نہیں تھا۔
درحقیقت جب انہوں نے ایپل کا لوگو تخلیق کیا تو اسٹیو جابز یا کمپنی کے کسی فرد نے انہیں تفصیلی ہدایات نہیں دی تھیں کہ کمپنی لوگو سے کیا چاہتی ہے۔
تو انہوں نے اس تخلیقی آزادی کا پورا فائدہ اٹھا اور اس عہد کے ڈیزائن ٹرینڈز کو مدنظر رکھ کر ایک سیب کا لوگو تیار کیا۔
پھر انہیں لگا کہ اس سیب کو لوگ کسی اور پھل جیسے چیری یا دیگر نہ سمجھ لیں تو انہوں نے اس کے دائیں جانب کا حصہ کھایا ہوا دکھانے کا فیصلہ کیا۔
اس معمولی چیز سے یہ لوگو واضح طور پر ایک سیب کا نظر آنے لگا۔
اس کے بعد سے کمپنی کی جانب سے اسی لوگو کو استعمال کیا جا رہا ہے، البتہ اس کے رنگ بدلتے رہتے ہیں، جیسے 1977 میں جو پہلا لوگو تیار کیا گیا وہ رینبو کلر کا تھا۔
اسے 1977 سے 1998 تک استعمال کیا گیا۔
1998 میں ایپل کے لوگو کو سیاہ رنگ کے سیب میں تبدیل کر دیا گیا۔
اس لوگو کے رنگ اکثر کمپنی تبدیل کرتی رہتی ہے مگر آفیشل طور پر سیاہ رنگ کا سیب ہی ایپل کی ڈیوائسز پر نظر آتا ہے۔



