آپ کی وہ عام عادت جو ذیابیطس جیسے دائمی مرض کا شکار بنا دیتی ہے
موجودہ عہد میں ذیابیطس ٹائپ 2 کا مرض بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کی ایک بڑی لوگوں کی اپنی ایک عام عادت ہے۔

اور وہ ہے ہفتے کے عام دنوں میں نیند پوری نہ کرنا۔
یہ بات سنگاپور میں ہونے والی ایک طبی تحقیق مین سامنے آئی۔
نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ہفتہ وار تعطیل کے دوران دیر تک سونے اور باقی دنوں میں مناسب وقت تک نہ سونے سے جسم کا گلوکوز میٹابولزم کا نظام متاثر ہوتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ نیند کی کمی کے شکار افراد کے جسموں کی گلوکوز پراسیس کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔
اس تحقیق میں 21 سے 35 سال کی عمر کے 48 صحت مند افراد کو شامل کیا گیا۔
ان افراد کو لیبارٹری کے اندر 2 راتوں کی مناسب نیند کا موقع فراہم کرکے بلڈ گلوکوز اور انسولین کی سطح کا تجزیہ کیا گیا۔
اس کے بعد اگلے 2 ہفتوں کے لیے انہیں نیند کا شیڈول دیا گیا۔
ان افراد کو 3 گروپس میں تقسیم کیا گیا اور ہفتے کے عام دنوں میں ایک گروپ کو کسی حد تک کم نیند، دوسرے کو بہت کم نیند اور تیسرے کو مناسب نیند کو معمول بنانے کی ہدایت کی گئی۔
ہر ہفتے کے اختتام پر ان کے انسولین اور بلڈ گلوکوز ٹیسٹ بھی کیے گئے۔
پہلے گروپ میں شامل افراد کو عام دنوں میں ہر رات 6 گھنٹے جبکہ ہفتہ وار تعطیلات پر 8 گھنٹے سونے کا موقع دیا گیا۔
دوسرے ہفتے انہیں عام دنوں میں 4 سے 8 گھنٹوں تک سونے کی ہدایت کی گئی۔
بہت کم نیند والے گروپ کو شروع سے ہی اس معمول (4 سے 8 گھنٹے) کو اپنانے کی ہدایت کی گئی تھی جبکہ تیسرے گروپ کو ہر رات 8 گھنٹے سونے کی ہدایت کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ ہفتے میں 2 دن تک اچھی نیند کے باوجود عام دنوں میں کم وقت تک سونے والے افراد کے گلوکوز میٹابولزم کا نظام متاثر ہوا۔
جن افراد کو روزانہ 6 گھنٹے سونے کی ہدایت کی گئی، ان میں انسولین کی مزاحمت کی علامات بھی دیکھنے میں آئیں۔
یعنی ان کا جسم معمول سے زیادہ انسولین بنانے لگا مگر اضافی انسولین کے باوجود بلڈ گلوکوز کی سطح میں کمی نہیں آئی۔
وہ افراد جن کی نیند کا دورانیہ اس بھی کم تھا، ان کے گلوکوز افعال متاثر ہونے کا عمل زیادہ تیز ہوگیا۔
تحقیق کے مطابق ان شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ ہفتے میں چند دن تک مناسب جبکہ باقی دنوں میں کم وقت تک سونے سے بھی ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ ہفتے میں زیادہ تر دنوں میں نیند کی کمی سے جسم کی گلوکوز کو کنٹرول میں رکھنے کی صلاحیت گھٹ جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیشتر افراد کا ماننا ہے کہ چھٹیوں کے دوران اچھی نیند سے باقی دنوں کی کسر پوری کی جاسکتی ہے مگر نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ یہ خیال درست نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے جس میں زیادہ افراد کو شامل کیا جائے گا۔
اس تحقیق کے نتائج سلیپ جرنل میں شائع ہوئے۔



