سائنس اور ٹیکنالوجی

6 برقی مصنوعات جو بند ہونے پر بھی مسلسل بجلی خرچ کرکے بل بڑھاتی رہتی ہیں

بجلی کا استعمال تو موجود عہد میں ناگزیر ہوچکا ہے اور اس کا بل بھی ادا کرنا ہوتا ہے۔

کچھ افراد اس سے بچنے کے لیے سولر پینلز کا استعمال کرتے ہیں مگر ایسا ہر ایک کے لیے ممکن نہیں۔

دنیا بھر میں لوگوں کو گھروں کے ماہانہ بجلی کی مد میں کافی خرچہ کرنا پڑتا ہے اور اسے کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔

مگر لوگوں کی جانب سے مختلف اہم ڈیوائسز یا اپلائنسز کو ان پلگ (unplug) نہیں کیا جاتا جس سے ان کے بجلی کے بل میں اضافہ ہوتا ہے۔

ان برقی مصنوعات کے پلگ ہر وقت سوئچ میں لگے رہتے ہیں، جس کے باعث وہ مسلسل معمولی مقدار میں بجلی خرچ کرتی رہتی ہیں۔

اس کے لیے ویمپائر انرجی کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے اور امریکا کے محکمہ توانائی کے مطابق ہر سال لوگ اس مد میں 100 سے 200 ڈالرز اضافی خرچ کرتے ہیں۔

اوسطاً ایک گھر کی 10 فیصد بجلی انرجی ویمپائر چوس جاتے ہیں۔

تو ان مصنوعات کے بارے میں جانیں جن کو پلگ نکال کر آپ اپنے بجلی کے بل میں ہر ماہ کم از کم 5 سے 10 فیصد تک کمی لا سکتے ہیں۔

آپ کا ٹیلی ویژن (ٹی وی)
2005 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پلازما ٹی وی سب سے زیادہ بجلی چوسنے والے انرجی ویمپائر ہوتے ہیں جو اوسطاً ہر سال بجلی کے بل میں اضافی 160 ڈالرز کا اضافہ کرتے ہیں۔

اب تو ٹیکنالوجی کافی جدید ہوچکی ہے اور ٹی وی بھی جدید ہوچکے ہیں تو یہ اعدادوشمار اب درست قرار نہیں دیے جاسکتے۔

مگر اب بھی ٹی وی بجلی خرچ کرنے والی بڑی برقی ڈیوائس ہے۔

اسمارٹ ٹی وی جب بند ہوتے ہیں (مگر پلگ سوئچ میں لگا ہوتا ہے) تو بھی وہ بہت زیادہ توانائی خرچ کرتے ہیں۔

اسمارٹ ٹی وی میں متعدد اضافی فنکشنز موجود ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ بجلی بھی زیادہ خرچ کرتے ہیں۔

2025 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ برطانیہ میں صارفین کو اسٹینڈ بائی موڈ میں رہنے والے ٹی وی پر سالانہ اضافی 14.54 پاؤنڈز خرچ کرنا پڑتے ہیں۔

ویڈیو گیم کنسولز
ہر قسم کے ویڈیو گیم کنسولز بہت زیادہ بجلی خرچ کرتے ہیں۔

ایکس باکس ون اسٹینڈ بائی موڈ میں ایک سال کے دوران 16 واٹس بجلی خرچ کر دیتا ہے اور یہ تو صرف ایک کنسول کی بات ہے، بیشتر افراد متعدد کنسولز استعمال کرتے ہیں۔

اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے اسٹینڈ بائی موڈ میں کتنی بجلی خرچ ہوتی ہوگی۔

ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں 20 فیصد صارفین کو کم از کم ایک گیم کنسول تک رسائی حاصل ہے۔

پرنٹرز
پرنٹرز سب سے زیادہ بجلی چوسنے والی برقی مصنوعات میں سے ایک ہے۔

2022 کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانوی گھرانے ہر سال بجلی کے بل میں لگ بھگ 4 پاؤنڈز کی بچت پرنٹر کو ان پلگ کرکے کرسکتے ہیں۔

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ بیشتر افراد گھر کی دیگر برقی مصنوعات کو تو ان پلگ کر دیتے ہیں مگر پرنٹر کے ساتھ ایسا کبھی نہیں کرتے۔

سیٹ ٹاپ باکس، وائی فائی راؤٹر اور ڈی وی ڈی پلیئر
سیٹ ٹاپ باکس استعمال کرتے ہیں تو اس سے ہر سال 50 ڈالرز کے قریب اضافی بجلی خرچ ہوتی ہے کیونکہ ان کا پلگ بھی ہر وقت آن رہتا ہے۔

اسی طرح ڈی وی ڈی یا بلیو رے پلیئر بھی اسٹینڈ بائی موڈ میں مسلسل بجلی خرچ کرتے ہیں۔

گھر میں وائی فائی فراہم کرنے والے راؤٹر بھی مسلسل بجلی خرچ کرتے رہتے ہیں کیونکہ بیشتر افراد انہیں بند کرنا پسند نہیں کرتے۔

کچن کی چھوٹی برقی مصنوعات
کچن میں متعدد برقی مصنوعات موجود ہوتی ہیں جو روزمرہ کے کاموں میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

ان میں سے متعدد اشیا کھانا پکانے یا صفائی میں مدد فراہم کرتی ہیں مگر انہیں ہر وقت سوئچ میں لگائے رکھنے سے بجلی کے بل میں اوسطاً سالانہ 10 سے 20 ڈالرز کا اضافہ ہو جاتا ہے۔

موبائل فون چارجر
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اب ہر گھر میں 2 سے 3 موبائل فونز موجود ہوتے ہیں اور ان کو روزانہ کئی بار چارج بھی کرنا پڑتا ہے۔

زیادہ تر افراد موبائل چارجر استعمال نہ کرنے پر بھی ان کے سوئچ آن رکھتے ہیں جس کے باعث چارجر بجلی خرچ کرتے رہتے ہیں۔

اسی طرح بیشتر افراد رات بھر اپنا فون چارج کرنے کے عادی ہوتے ہیں جس سے بھی بجلی کے بل میں ہر ماہ چند سو روپے کا اضافہ ہو جاتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker