ڈبلیو ایچ او نے کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا کے پھیلاؤ کو عالمی ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیدیا
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا کے پھیلاؤ کو بین الاقوامی سطح پر عوامی صحت کے لیے پبلک ایمرجنسی قرار دیا ہے۔

ان دونوں ممالک میں اب تک 300 سے زائد مشتبہ کیسز اور 88 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔
17 مئی کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے بتایا کہ ایبولا کا پھیلاؤ وبائی ایمرجنسی کی سطح تک نہیں پہنچا مگر پڑوسی ممالک میں اس کے پھیلاؤ کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔
طبی حکام نے تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک میں ایبولا کی ایک خاص قسم Bundibugyo virus disease (بی وی ڈی) پھیل رہی ہے جس کے لیے ابھی کوئی منظور شدہ ادویات یا ویکسین دستیاب نہیں۔
ویسے تو کانگو اور یوگنڈا میں اب تک 20 سے زائد بار ایبولا پھیل چکا ہے مگر یہ محض تیسری بار ہے جب بی وی ڈی کی تصدیق ہوئی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق کیسز کی تعداد بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔
ابھی تمام کیسز کانگو میں سامنے آئے ہیں، یوگنڈا میں صرف 2 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔
حکام نے بتایا کہ کانگو کے مشرقی صوبے Ituri میں یہ وائرس پھیلا رہا ہے جو یوگنڈا اور جنوبی سوڈان کے قریب ہے۔
افریقا سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن نے 336 مشتبہ کیسز اور 87 اموات کو رپورٹ کیا۔
یوگنڈا نے 16 مئی کو ایک کیس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ کیس کانگو سے یہاں منتقل ہوا جبکہ اس مریض کا انتقال ہوچکا ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے یوگنڈا میں ایک اور کیس کی بھی تصدیق کی ہے اور بتایا کہ بظاہر ان دونوں کیسز کا تعلق کانگو سے نہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے تصدیق شدہ مریجوں کو فوری طور پر الگ تھلگ کرنے کا مشورہ دیا ہے جبکہ 21 دنوں تک مقامی سطح پر سفر کو محدود اور بین الاقوامی سفر پر پابندی کی ہدایت کی ہے۔
عالمی ادارے نے زور دیا کہ سرحدوں کو بند نہ کیا جائے یا سفر اور تجارت پر سخت پابندیاں عائد نہ کی جائیں۔
واضح رہے کہ ایبولا انسانوں اور جانوروں میں پایا جانے والا ایک ایسا مرض ہے جس کے شکار افراد میں دو سے تین ہفتے تک بخار، گلے میں درد، پٹھوں میں درد اور سردرد جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور وہ قے، ڈائریا اور خارش وغیرہ کا شکار ہوجاتے ہیں، جبکہ جگر اور گردوں کی کارکردگی بھی گھٹ جاتی ہے۔
مرض میں شدت بڑھنے کے بعد جسم کے کسی ایک یا مختلف حصوں سے خون بہنے لگتا ہے اور اس وقت اس کا ایک سے دوسرے فرد یا جانور میں منتقل ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔



