‘اپنی ناکامیوں کا ملبہ ہم پر نہ ڈالیں’: قطر کی اسرائیلی الیکشن میں مداخلت کے الزام کی تردید

قطر نے اسرائیل کے حالیہ انتخابات میں کسی قسم کی مداخلت یا انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے والی سرگرمیوں کے لیے فنڈنگ کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق قطر نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ الزامات بعض اسرائیلی سیاست دانوں اور ان سے وابستہ میڈیا آؤٹ لیٹس کی جانب سے دانستہ طور پر پھیلائے جا رہے ہیں۔
قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ ایک باضابطہ بیان میں واضح کیا کہ اس طرح کے بے بنیاد الزامات قطر کو خطے میں اس کی جاری ثالثی کی کوششوں اور سفارتی و انسانی ہمدردی کے کاموں کو آگے بڑھانے سے نہیں روک سکتے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کے اتحاد نے انتخابات کے دوران عرب جماعتوں پر مبینہ قطری فنڈنگ کے غیر مصدقہ الزامات عائد کرتے ہوئے دباؤ بڑھا دیا ہے۔
اس مہم کے دوران انتہائی دائیں بازو کے سیاستدان قومی سلامتی کے وزیر اتمر بین گویر نے عرب جماعتوں کے رہنماؤں کی گرفتاری کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔
یہ دباؤ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سینٹرل الیکشنز کمیٹی کے چیئرمین نے غیر ملکی فنڈنگ کے شبہے پر ‘شن بیت’ کو تحقیقات کا حکم دیا ہے حالانکہ پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے دھاندلی کے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔



