پاکستانتازہ ترین

مین ہول میں گرنے والی خاتون کی لاش ملنے پر پنجاب حکومت، ریسکیو اور پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

لاہور (29 جنوری 2026): مین ہول میں گرنے والی خاتون کی لاش ملنے کے بعد پنجاب حکومت نے اپنا مؤقف بدل لیا ہے۔

لاہور میں بھاٹی دروازہ کے علاقے میں ماں بیٹی کے مین ہول میں گرنے کا معاملہ نئی صورت اختیار کر گیا، خاتون کی لاش ملنے کے بعد نہ صرف مقامی حکومت نے اپنا مؤقف بدلا ہے بلکہ ریسکیو کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

ترجمان کا پہلا مؤقف یہ تھا کہ اطلاع جھوٹی تھی، ایسا کوئی واقعہ ہی نہیں ہوا، اور اب پولیس نے کہا ہے کہ مین ہول میں گرنے والی خاتون کی لاش آؤٹ فال روڈ سے مل گئی ہے۔

خاتون کی لاش ملنے پر ریسکیو کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان اٹھنے لگے ہیں کیوں کہ ریسکیو کا پہلا مؤقف تھا کہ تکنیکی بنیادوں پر خاتون مین ہول سے سیوریج لائن میں نہیں جا سکتی۔

سانحہ گل پلازہ کی انکوائری رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش، بلاول بھٹو افسران کی کارکردگی سے ناراض
ریسکیو حکام کے مطابق لاپتا بچی کی تلاش کے لیے امدادی ٹیموں نے آپریشن تیز کر دیا گیا ہے، پولیس نے بھی پھرتیاں دکھاتے ہوئے ابتدا میں متاثرہ خاتون کے شوہر سمیت 3 افراد کو حراست میں لے لیا تھا، اور اب کہا ہے کہ متاثرہ فیملی کی درخواست پر ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

علاوہ ازیں، مین ہول میں 2 انسانی زندگیاں ضائع ہونے کے بعد انتظامیہ جاگ گئی ہے، اور متعلقہ مقام پر سیمنٹ کی سلیب پہنچا دی گئیں، واقعے کے کئی گھنٹوں کے بعد گرین شیٹ بھی لگا دی گئی۔ متعلقہ حکام کی معطلی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، اور افسران کے جائے حادثہ پر دورے شروع ہو گئے ہیں۔

خیال رہے کہ حکومت نے ذمہ داروں کے تعین کے لیے ہائی لیول کمیٹی تشکیل دے رکھی ہے، یہ کمیٹی اپنی رپورٹ 24 گھنٹے میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو پیش کرے گی۔

واضح رہے کہ لاش ملنے سے قبل داتا دربار کے قریب سیوریج لائن میں ماں بیٹی کے گرنے کے معاملے کو مشکوک سمجھا جا رہا تھا، اور یہ طے نہیں ہو پا رہا تھا کہ وہ سیوریج لائن میں گرے یا نہیں، ریسکیو کے مطابق انھیں ساڑھے 7 بجے خبر ملی تھی کہ 24 سال کی سعدیہ اپنی 10 ماہ کی بچی ردا سمیت کھلی سیوریج لائن میں گر گئی ہے۔

جب انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں پہنچیں اور سرچ آپریشن شروع کیا تو3 گھنٹے بعد ضلعی انتظامیہ نے اس اطلاع کو غلط قرار دے دیا، اور کہا کہ سیوریج لائن کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا وہاں کوئی حادثہ پیش نہیں آیا، ریسکیو نے کہا جس سیوریج ہول کی نشان دہی کی گئی وہاں ڈوبنا تکنیکی طور پر ناممکن ہے۔

دوسری طرف گرنے والی لڑکی کے سسرالیوں کا کہنا تھا کہ سعدیہ بچی سمیت اسی گٹر میں گِری، اور وہ داتا دربار حاضری دینے آئے تھے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker