پنکی سے رابطےکے الزام میں سی ٹی ڈی کے دو اہلکاروں کو حراست میں لےلیا گیا

کراچی: منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی کیس کی تفتیش میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی کے 2 اہلکاروں کو حراست میں لےلیا گیا ہے۔
سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق دونوں اہلکار پنکی کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے۔ حراست میں لیے جانے والوں میں اے ایس آئی کفیل اور ایک سپاہی علی شامل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ دونوں اہلکاروں کی پوسٹنگ سی ٹی ڈی سول لائنز میں ہے۔
سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق کفیل نے چند برس قبل پنکی کے رائیڈر کو پکڑا تھا، رائیڈر کے ذریعے پنکی سے رابطے بڑھائےگئے، کفیل نے اپنے ساتھی علی کے ذریعے پنکی کو سپورٹ کیا، دونوں اہلکاروں کو آج صبح دفتر بلایا گیا، دونوں سے پنکی سے متعلق سوالات کیےگئے جس کے وہ تسلی بخش جواب نہیں دے سکے، دونوں سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب منشیات کیس میں گرفتار انمول عرف پنکی کیس میں ضلعی ایس ایس پی علی حسن کو معطل کردیا گیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق معطلی کا فیصلہ وزیر داخلہ سندھ کی ہدایت پر کیا گیا ہے۔
دوسری طرف ملزمہ انمول عرف پنکی کو 3 روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا، ملزمہ کو کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں درخشاں تھانےکے پانچ اور گزری تھانےکے تین مقدمات میں پیش کیا گیا تھا، ملزمہ اس سے قبل قتل اور منشیات برآمدگی کیسز میں پہلے ہی 22 مئی تک کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے۔



