
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے وزیراعظم شہباز شریف بہت محنت سے اپنا کام کرتے ہیں، آزاد جموں و کشمیر کے مسائل حل کرنے کے لیے سیاسی انداز میں کوشش کی گئی لیکن ایک وفاقی وزیر نے آگ بجھانے کے بجائے اسے مزید بھڑکایا، وہ وزیر اب تک معافی مانگنے کے لیے بھی تیار نہیں۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا وزیراعظم جس نیت کے ساتھ اتحادیوں اور اپوزیشن کو انگیج کرتے ہیں اسے سراہتا ہوں، لیکن کچھ وزیر ایسے مشورے دیتے ہیں کہ کام میں مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں، ایسے وزیر کیوں ہیں جو کہیں کہ راولاکوٹ کے شہری کشمیری نہیں، وزیراعظم کو اپنی ٹیم کو کنٹرول کرنا چاہیے، ایک وفاقی وزیرنے آگ بجھانے کے بجائے اسے مزید بھڑکایا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی وزیر کہے کہ ہم جیب میں 12سیٹیں لےکر آتے ہیں تو کیسے اس کا ساتھ دیں، راجہ پرویز اشرف نے خواجہ آصف کو اپنی بات واپس لینے کا موقع دیا، وزیر دفاع معافی مانگنے کے لیے تیار نہیں تو اس وزیر کا ساتھ کیسے دیں؟
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا وزیراعظم مثبت انداز سے کام کرکے ملک کو مسائل سے نکالنا چاہتے ہیں، آزاد جموں و کشمیر کے مسائل حل کرنے کے لیے سیاسی انداز میں کوشش کی گئی، ایک وزیر کچھ دوسرا کچھ بات کرتا ہے، وزیراعظم اس کو کنٹرول کریں ورنہ وقت گزرنے کے ساتھ مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
کراچی کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کراچی کے دوستوں کو بتاتا ہوں کہ آپ کے مسائل پیپلز پارٹی کے ساتھ نہیں کابینہ میں بیٹھے آپ کے ارکان کے ساتھ ہیں، آپ کے کابینہ میں بیٹھے دوست آپ سے غلط بیانی کر رہے ہیں، پی ڈی ایم میں جو معاہدہ ہوا تھا اس میں آڑے خود ایم کیو ایم کے وزرا آئے، مجھ پر اور پیپلزپارٹی پر بےشک تنقید کریں مگر اپنے وزراء سے پوچھیں، آپ اگر سمجھتے ہیں کہ کراچی کے مسائل حل نہیں ہوتے آپ کو لالی پاپ مل رہا ہے تو آپ حکومت کو چھوڑیں اور الگ ہو جائیں، کیا کراچی زیادہ اہم ہے یا یہ کرسیاں زیادہ اہم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی جہاں حکومت ہے وہاں بلدیاتی نظام ہیں، مسلم لیگ ن کو بلدیاتی الیکشن سے خوف ہے، کراچی میں جو بلدیاتی نظام ہے وہ ذرا لاہور میں بھی لائیں، آپ آئین کی بات کرتے ہیں، ترامیم کرتے ہیں مگر اسلام آباد میں بھی بلدیاتی نظام نہیں، آپ اسلام آباد کا بلدیاتی نظام ایسالائیں تاکہ ہمیں رشک ہو اسلام آباد کا میئر زیادہ با اختیار ہو، میں مطالبہ کرتا ہوں پورے ملک میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں، گلگت بلتستان میں حکومت بن چکی ہے، 90 روز میں بلدیاتی انتخابات کرائیں گے۔
ان کا کہنا تھا حکومت سے کہتا ہوں کہ آپ عاشور سے پہلے بجٹ منظور کرائیں، کل سے ہمارے ارکان نہیں ہونگے، اب آپ کی مرضی ہے یہاں بحث کراتے ہیں یا پھر بجٹ کی منظوری، چاہتا ہوں وزیراعظم کامیاب ہوں کیونکہ وہ کامیاب ہونگے تو صورتحال بہتر ہوگی۔



