پاکستان

ٹرانسمیشن سسٹم میں نقائص، بجلی صارفین 86 ارب 45 کروڑ کا اضافی بوجھ برداشت کرنے پر مجبور

بجلی کے ٹرانسمیشن سسٹم میں نقائص کا بوجھ پاکستانی عوام برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ آڈیٹر جنرل کی سالانہ رپورٹ میں تفصیلات سامنے آ گئیں ۔ آڈٹ حکام نے پیداواری صلاحیت ہونے کے باوجود سستی بجلی صارفین تک نہ پہنچائے جانے پر سوالات اٹھا دیئے۔

آڈٹ رپورٹ 2025،26 میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پیداواری صلاحیت کے باوجود ٹرانسمیشن لائنیں نہ بچھانا کپیسٹی پیمنٹ بڑھنے کی بڑی وجہ ہے ۔ مٹیاری لاہور ٹرانسمیشن لائن کی ترسیلی صلاحیت 4 ہزار میگاواٹ ہے لیکن اس کو محض 47 فیصد صلاحیت پر چلایا جاتا رہا ۔

ٹرانسمیشن لائن کو مکمل استعداد پر نہ چلانے سے صارفین پر 86 ارب 45 کروڑ کا اضافی بوجھ پڑا ۔ رپورٹ کے مطابق تقسیم کارکمپنیوں کے 500 اور 220 کے وی کے اکثر ٹرانسفارمر پر اضافی بوجھ ہے۔

سسٹم کو رسک سے بچانے کیلئے بجلی تقسیم کار کپمنیاں لوڈشیڈنگ کرتی ہیں۔ ٹرانسمیشن سسٹم کے نقائص کے باعث کپیسٹی پیمنٹ کا سالانہ حجم 1900 ارب تک پہنچ چکا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker