
محکمہ اسکول ایجوکیشن کی جانب سے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ کو جاری خط میں کہا گیا ہے کہ معائنہ 15 روز کے اندر شروع کیا جائے، خطرناک اور جزوی طور پر متاثرہ یا ساختی طور پر غیر محفوظ عمارتوں کی نشاندہی کی جائے۔
خط کے مطابق 16 اکتوبر کو سیکرٹری اسکول ایجوکیشن کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں خطرناک عمارتوں میں زیرتعلیم طلبہ کی حفاظت پر تشویش ظاہر کی گئی، اجلاس میں واضح کیا گیا کہ کسی بھی ایسی عمارت یا اس کے حصے میں تدریسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہوگی جسے خطرناک یا غیر محفوظ قرار دیا گیا ہو۔
ہدایت نامے کے مطابق غیر محفوظ عمارتوں یا ان کے متاثرہ حصوں میں تعلیمی سرگرمیاں فوری طور پر بند کرکے طلبہ کو محفوظ اور موزوں متبادل مقامات پر منتقل کیا جائے تاکہ ان کی تعلیم بھی متاثر نہ ہو، نجی اسکولوں کی انجمنوں سے رابطہ کرکے انہیں عمارتوں کی حفاظت سے متعلق مقررہ معیار پر فوری عمل درآمد کی ہدایت دینے کا بھی کہا گیا ہے۔
اس کے علاوہ خط میں اسکول مالکان اور پرنسپلز کو طلبہ اور عملے کی حفاظت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ غفلت یا احکامات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی ہوگی جب کہ خطرناک یا غیر محفوظ عمارتوں میں کام کرنے والے نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور قواعد کے مطابق جہاں ضروری ہواادارے بند کرنے سمیت ریگولیٹری کارروائی کی جائے گی۔
غیر رجسٹرڈ اداروں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے جب کہ ڈائریکٹوریٹ کو اسکولوں کے معائنے، نشاندہی شدہ غیر محفوظ عمارتوں، متاثرہ طلبہ، منتقلی کے انتظامات اور شروع کی گئی کارروائی کی تفصیلات پر مشتمل جامع رپورٹ 15روز میں محکمہ کو بھیجنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ بچوں کی جان کا تحفظ محکمہ کی اولین ترجیح ہے اور ان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔



