لیپ ٹاپ کی فل برائٹنس آنکھوں کے لیے کتنی نقصان دہ ہے؟

آج کل بہت سے لوگ کام، پڑھائی اور تفریح کے لیے گھنٹوں لیپ ٹاپ استعمال کرتے ہیں۔ لیکن زیادہ تر لوگ اپنے لیپ ٹاپ کی برائٹنس ہمیشہ 100 فیصد رکھتے ہیں تاکہ انہیں سب کچھ زیادہ صاف دکھائی دے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اسکرین کی تیز روشنی میں مسلسل کام کرنے سے دن کے اختتام پر آنکھوں میں جلن، بوجھل پن، پانی آنا، دھندلاپن اور سر درد جیسی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
نیوز 18 کی رپورٹ کے مطابق، ماہرِ چشم ڈاکٹر راج نیش سنہا کا کہنا ہے کہ کئی گھنٹوں تک لیپ ٹاپ کو پوری روشنی پر استعمال کرنے سے آنکھوں میں جلن، بھاری پن، پانی آنے، دھندلا دکھائی دینے اور دن کے اختتام پر ہلکے سر درد جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔
ڈاکٹر راج نیش سنہا کے مطابق، جب اسکرین کی روشنی اردگرد کے ماحول کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی ہے تو آنکھوں کو روشنی کے فرق کے ساتھ بار بار مطابقت پیدا کرنا پڑتی ہے۔ طویل وقت تک اس کیفیت میں کام کرنے سے آنکھوں میں بے آرامی اور تھکن محسوس ہو سکتی ہے۔
امریکن اکیڈمی آف آفتھالمولوجی (اے اے او) بھی مشورہ دیتی ہے کہ اسکرین کی روشنی کو ہمیشہ اپنے ارد گرد کے ماحول اور کمرے کی روشنی کے حساب سے رکھنا چاہیے تاکہ آنکھوں کو دیکھنے میں آسانی رہے۔
اگر لیپ ٹاپ کی اسکرین اندھیرے یا کم روشن کمرے میں چراغ کی طرح چمکتی محسوس ہو تو اس کی روشنی کم کرنے سے دیکھنے میں آرام مل سکتا ہے۔
ماہرین امراض چشم کے مطابق، اسکرین کی روشنی کا کوئی ایک مقررہ فیصد ایسا نہیں جو ہر شخص کے لیے بہترین ہو۔ اس لیے اسے اپنی جگہ کی روشنی اور دیکھنے میں آسانی کے مطابق تبدیل کرنا چاہیے۔
اسکرین پر روشنی پڑنے سے بھی آنکھیں تھک سکتی ہیں
آنکھوں کی تھکن کی وجہ صرف اسکرین کی زیادہ روشنی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اسکرین پر کھڑکی، بلب یا چھت پر لگی تیز روشنی کا عکس پڑنے سے بھی تحریر پڑھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اگر لیپ ٹاپ کے پیچھے یا قریب کھڑکی ہو، کمرے میں تیز روشنیاں ہوں یا اسکرین چمک دار ہو تو اس پر روشنی کے عکس بن سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں اسکرین کو بار بار زیادہ برائٹ کرنے کے بجائے لیپ ٹاپ کی جگہ تبدیل کرنا یا روشنی کے عکس کو کم کرنا زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
اگر عکس ختم کرنا مشکل ہو تو میٹ اسکرین فلٹر بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ کمرے کی روشنی اور اسکرین کی چمک میں مناسب توازن رکھنا ضروری ہے۔
لیپ ٹاپ کی روشنی کتنی رکھنی چاہیے؟
لیپ ٹاپ کی روشنی اتنی ہونی چاہیے کہ تحریر آسانی سے پڑھی جا سکے۔ چھوٹے الفاظ پڑھنے کے لیے روشنی بڑھانے کے بجائے ٹیکسٹ کا سائز بڑا کرنا بہتر رہتا ہے اور اسکرین کو چہرے سے تقریباً ایک ہاتھ کے فاصلے پر رکھنا چاہیے۔ اس سے تحریر پڑھنا آسان ہو سکتا ہے اور اسکرین کے قریب جھکنے کی ضرورت بھی کم پڑتی ہے۔
امریکن اکیڈمی آف آفتھالمولوجی کے مطابق، اسکرین کو آنکھوں سے تقریباً 25 انچ، یعنی بازو کے فاصلے پر رکھنا مناسب ہے۔ اس کے علاوہ لیپ ٹاپ کی اسکرین اس انداز میں ہونی چاہیے کہ اسے دیکھتے وقت نگاہ قدرے نیچے کی طرف رہے۔
ہر 20 منٹ بعد آنکھوں کو آرام دیں
مسلسل کئی گھنٹے اسکرین کو دیکھتے رہنے سے آنکھوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے 20-20-20 اصول اپنایا جا سکتا ہے۔
اس اصول کے مطابق، ہر 20 منٹ بعد اسکرین سے نظریں ہٹا کر کم از کم 20 فٹ دور موجود کسی چیز کو تقریباً 20 سیکنڈ تک دیکھیں۔ اس سے مسلسل قریب کی چیز پر توجہ مرکوز رکھنے کا سلسلہ ٹوٹتا ہے اور آنکھوں کو کچھ دیر آرام ملتا ہے۔
لیپ ٹاپ استعمال کرتے ہوئے پلکیں جھپکانا بھی ضروری ہے۔ اسکرین پر مسلسل نظریں جمانے سے بعض افراد کم پلکیں جھپکاتے ہیں، جس سے آنکھوں میں خشکی اور جلن محسوس ہو سکتی ہے۔
اگر آنکھیں خشک رہتی ہوں تو بعض لوگوں کو مصنوعی آنسوؤں والے آئی ڈراپس سے مدد مل سکتی ہے، تاہم مسلسل علامات کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
کن علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے؟
لیپ ٹاپ کے استعمال سے ہونے والی آنکھوں کی تھکن عموماً عارضی ہوتی ہے اور اسکرین سے وقفہ لینے یا استعمال کی عادات بدلنے سے بہتر ہو سکتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ لیپ ٹاپ استعمال کرنے سے آنکھوں کو لازماً مستقل نقصان پہنچ رہا ہے۔
تاہم، اگر دھندلا دکھائی دینے، بار بار سر درد ہونے، آنکھوں میں شدید خشکی، درد، سرخی، مسلسل پانی آنے یا روشنی برداشت نہ ہونے کی شکایت ہو تو اسے صرف اسکرین کے استعمال کا نتیجہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ایسی علامات برقرار رہنے پر ماہرِ چشم سے معائنہ کروانا بہتر ہے۔
ماہرین کے مطابق، لیپ ٹاپ استعمال کرتے وقت اسکرین کی روشنی ماحول کے مطابق رکھنا، مناسب فاصلے پر بیٹھنا اور وقفے لینا آنکھوں کی تھکن کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔



