صحت

جوان افراد میں سب سے تیزی سے پھیلنے والے کینسر کے بارے میں 5 چیزیں جو آپ کو جاننی چاہیے

کوئی بھی فرد یہ سننے نہیں چاہے گا کہ وہ کینسر کا شکار ہو چکا ہے، مگر جب اس مرض کا سامنا جوان افراد کو ہوتا ہے تو یہ خبر زیادہ تباہ کن ہوتی ہے کیونکہ مستقبل کے بارے میں جو خواب دیکھے ہوتے ہیں وہ چکنا چور ہوتے نظر آتے ہیں۔

بدقسمتی سے 50 سال سے کم عمر افراد میں کینسر کیسز کی شرح بڑھ رہی ہے، جس کی تصدیق متعدد تحقیقی رپورٹس میں کی گئی۔

جوان افراد میں پھیلنے والی کینسر کی اقسام میں آنتوں کا کینسر سب سے زیادہ عام ہے۔

امریکا کے ہارورڈ میڈیکل اسکول سے تعلق رکھنے والی ایسوسی ایٹ پروفیسر اور نظام ہاضمہ سے متعلق امراض کی ماہر ڈاکٹر کمی این جی کے مطابق ‘یہ شاک کر دینے والا ہوتا ہے کہ مکمل طور پر فٹ اور صحت مند جوان فرد، جس میں مرض کا خطرہ بڑھانے والے عناصر موجود نہ ہوں، خاندان میں کینسر کی تاریخ نہ ہو، اس میں اچانک کینسر کی اسٹیج 4 کی تشخیص ہو اور ایسا بہت زیادہ عام ہوتا جا رہا ہے’۔

وہ گزشتہ 2 دہائیوں سے ایک کینسر انسٹیٹیوٹ میں مریضوں کا علاج کر رہی ہیں اور جوان افراد میں کینسر کے پھیلاؤ کے حوالے سے تحقیقی کام بھی کر رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 1990 کی دہائی کے وسط سے ہر سال جوان افراد میں آنتوں سے متعلق کینسر کیسز کی شرح میں 2 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ان کے مطابق یہ مرض صرف امریکا میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں مردوں اور خواتین میں تیزی سے عام ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ‘آپ کی عمر چاہے جو بھی ہو، کینسر کی تشخیص کی خبر سننا بہت بڑا دھچکا ثابت ہوتی ہے، مگر جوان افراد کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے، 80 فیصد افراد ایسے ہوتے ہیں جن کے بچوں کی عمریں 18 سال سے کم ہوتی ہیں، وہ اپنے معمر والدین کا خیال رکھ رہے ہوتے ہیں یا کیرئیر کے وسط میں ہوتے ہیں یا اپنا خاندان بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہوتے ہیں’۔

امریکا میں 50 سال سے کم عمر مردوں میں آنتوں کے کینسر سے اموات کی شرح بڑھی ہے اور اگر یہ سلسلہ برقرار رہا تو 2030 میں یہ خواتین میں بھی کینسر سے اموات کا باعث بننے والی سب سے عام قسم ہوگی۔

ڈاکٹر کمی نے کہا کہ ابھی بھی جوان افراد میں کینسر کیسز کی تعداد کم قرار دی جاسکتی ہے۔

انہوں نے ایسے چند نکات کی نشاہدہی بھی کی جو جوان افراد میں کینسر کے حوالے سے اہمیت رکھتے ہیں۔

آنتوں کے کینسر کی ابتدائی علامات سے واقفیت ضروری ہے
ڈاکٹر کمی نے بتایا کہ دنیا بھر میں جوان افراد میں کینسر کی متعدد اقسام کی شرح بڑھ رہی ہے مگر نظام ہاضمہ سے جڑے کینسر سے متاثر ہونے کا امکان سب سے زیادہ ہوتا ہے، جس میں آنتوں، لبلبے، معدے اور غذائی نالی کے کینسر وغیرہ شامل ہیں۔

کینسر کی جلد تشخیص مریض کی صحتیابی کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے اور آنتوں کے کینسر سے جڑی علامات سے واقفیت ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جوان افراد میں کینسر کی اس قسم کی سب سے عام علامت پاخانے یا فضلے میں خون کا نظر آنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر فضلے میں خون نظر آئے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہوسکتی ہے۔

اسی طرح بغیر کسی وجہ کے جسمانی وزن میں کمی بھی اس مرض کی ایک اور علامت ہے۔

دیگر عام علامات میں آنتوں کی سرگرمیوں میں تبدیلیاں جیسے ہیضہ یا قبض کا اکثر سامنا ہونا اور پیٹ درد وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

اس کے علاوہ ہر وقت نقاہت یا تھکاوٹ کا سامنا بھی ہوسکتا ہے جو جسم میں خون کے سرخ خلیات کی کمی کا نتیجہ ہوتا ہے۔

ڈاکٹر کمی کے مطابق اب چاہے ان علامات پر بات کرنا کتنا بھی مشکل ہو، مگر یہ ضروری ہے کہ آپ ان کا مشاہدہ کرنے پر اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

ماحولیاتی عناصر اس مرض کا خطرہ بڑھا رہے ہیں
1950 کی دہائی میں پیدا ہونے والے افراد کے مقابلے میں 1990 کی دہائی میں پیدا ہونے والے افراد میں آنتوں کے کینسر کا خطرہ 2 سے 4 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

ڈاکٹر کمی کے مطابق اس حوالے سے ابھی کسی ایک ٹھوس وجہ کا تعین تو نہیں ہوسکا مگر تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ کچھ ماحولیاتی عناصر اس حوالے سے کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ماحولیاتی عناصر کا حوالہ اس لیے دیا جاتا ہے کیونکہ چند دہائیوں کے دوران ہم انسانوں کے جینز میں ایسی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی جو ہمیں کینسر کا آسان شکار بنا رہی ہو۔

ماحولیاتی عناصر جیسے موٹاپے، زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے یا جسمانی سرگرمیوں سے گریز اور غذائیں جیسے سرخ گوشت، پراسیس فوڈ، چینی اور میٹھے مشروبات ممکنہ طور پر کینسر کا شکار بنانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ موٹاپا ممکنہ طور پر سب سے اہم عنصر ہے کیونکہ اس کی شرح میں حالیہ دہائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، مگر آنتوں کے کینسر کے شکار متعدد مریض موٹاپے سے متاثر نہیں ہوتے۔

ڈاکٹر کمی کے خیال میں ابھی بھی ایسے ماحولیاتی عناصر ممکنہ طور پر موجود ہیں جن پر تحقیقی کام نہیں ہوا، جیسے پلاسٹک کے ننھے ذرات۔

جینیاتی ٹیسٹنگ سے کافی کچھ معلوم ہوسکتا ہے
جوانی میں کینسر کے بیشتر کیسز میں کسی موروثی عنصر کے کردار پر وضاحت نہیں کی گئی مگر ڈاکٹر کمی کے خیال میں ہوسکتا ہے کہ مخصوص افراد میں یہ خطرہ کسی خاندانی عارضے سے بڑھتا ہو۔

انہوں نے کہا کہ کینسر کے تمام جوان مریضوں کے خاندانی جینیاتی ٹیسٹ ہونے چاہیے، جبکہ خاندان میں کینسر کی تاریخ کے بارے میں جاننا بھی ضروری ہے۔

جوان مریضوں کو زیادہ مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے
کینسر کی کسی بھی قسم سے متاثر ہونے پر کم عمری کو علاج کی کامیابی کا امکان بڑھانے والا عنصر تصور کیا جاتا ہے۔

جوان افراد ادویات کی زیادہ مقدار کا استعمال کرسکتے ہیں اور کیمو تھراپی کے زیادہ راؤنڈز مکمل کرسکتے ہیں جبکہ سرجری یا ریڈی ایشن سے بھی مدد حاصل کرسکتے ہیں۔

مگر ڈاکٹر کمی کے مطابق جوان افراد میں کینسر کو شکست دینے کا امکان کسی معمر مریض سے زیادہ نہیں ہوتا، درحقیقت زیادہ جوان افراد (35 سال سے کم عمر) میں جلد موت کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

اسکریننگ کرانا ضروری
ڈاکٹر کمی نے زور دیا کہ اگر آپ کے خاندان میں کینسر کی تاریخ ہو، آپ کی عمر 45 سال سے زائد ہے یا کسی قسم کی علامات سامنے آئی ہیں، تو کینسر کی اسکریننگ کرانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے شرمندگی محسوس مت کریں اور ڈاکٹر یا گھر والوں سے مشاورت کریں۔

نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker