کچھ عرصہ پہلے تک گھروں یا نجی عمارات کی چھتوں پر سولر پینلز لگوانا انتہائی مہنگا حل تھا لیکن اب بے تحاشا سپلائی کے باعث سولر پینلز کی قیمتیں پاکستان میں اپنی تاریخ کی نچلی ترین سطح پر آ گئی ہیں۔
ایک کلو واٹ کا سولر سسٹم روزانہ اوسطاﹰ چار کلو واٹ تک بجلی پیدا کر سکتا ہے، جو ماہانا أوسط میں 120 یونٹ بنتے ہیں۔
گزشتہ برس کی نسبت اب پاکستان میں پانچ کلو واٹ کے سولرسسٹم کی قیمت دو لاکھ پندرہ ہزار روپے تک جبکہ دس کلو واٹ کے سسٹم کی قیمت چار لاکھ تیس ہزار روپے تک گر گئی ہے۔
پاکستان میں عمومی طور پر سولر سسٹم دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک آف گرڈ سسٹم اور دوسرا آن گرڈ سسٹم۔ آف گرڈ سسٹم کا مطلب ہے کہ جو سولر انرجی کسی صارف کا سولر سسٹم بنا رہا ہوتا ہے، وہ اس کے گھر میں ہی استعمال ہو جاتی ہے۔
اس استعمال کا انحصار کسی رہائش گاہ میں موجود بجلی سے چلنے والے آلات پر ہوتا ہے۔ زیادہ تر آف گرڈ سولر سسٹم دن کے وقت ایک خاص مقدار میں اضافی بجلی پیدا کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔
آن گرڈ سولر سسٹم پی وی پینل سسٹم کے ذریعے کسی گرڈ سے منسلک ہوتا ہے، جو شمسی توانائی سے بجلی کی اضافی یومیہ پیداوار مقامی گرڈ کو منتقل کر دیتا ہے اور یوں متعلقہ کمپنی اس صارف کو اس کے بدلے ادائیگی کرتی ہے۔
سولر پینلز کے کاروبار سے وابستہ راولپنڈی کے رہائشی صدیق حسین نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”کوئی بھی سولرسسٹم لگانے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہوتا ہے کہ اس گھر میں بجلی کی کھپت کتنی ہے؟ پھر پیداوار کے بعد ضرورت کے مطابق بجلی گھر میں استعمال ہو جاتی ہے اور جو باقی بچتی ہے، وہ واپڈا یا اس جیسے کسی بھی ادارے کو فروخت کر دی جاتی ہے۔ اس کے لیے ایک میٹر الیکٹرک کمپنی کے گرڈ سے جڑا ہوتا ہے۔
‘‘
صدیق حسین کے مطابق، ”گزشتہ چھ ماہ کے دوران پاکستان میں سولر پینلز کی قیمتوں میں 40 فیصد تک کمی ہوئی ہے اور یہ رجحان ابھی جاری ہے، حالانکہ دوسری طرف ملک میں انورٹرز اور بیٹریوں کی قیمتیوں میں اضافہ ہوا ہے۔‘‘
سولر ٹیکنالوجی میں پاکستانی سائنسدان کے دو ورلڈ ریکارڈ اور مستقبل میں شمسی توانائی کی اہمیت
پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر ای سیون کے رہائشی کامل خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ انہوں نے دو سال پہلے اپنے ہاں ایک سولر انرجی سسٹم 25 لاکھ روپے میں لگوایا تھا اور اب ویسا ہی سسٹم مارکیٹ میں آدھی سے بھی کم قیمت پر دستیاب ہے۔
کامل خان کا کہنا تھا، ”میرے سولر سسٹم لگوانے کی وجہ مہنگی بجلی اور ماہانہ ستر یا اسی ہزار روپے تک کے بل بنے تھے۔ اب میرا بجلی کا بل صفر ہوتا ہے۔ لیکن حکومت کو اس بات کے لیے تو جواب دہ بنایا جانا چاہیے کہ ‘نیٹ میٹرنگ‘ کرنے والے صارفین سے وہ جو اضافی بجلی اونے پونے داموں خریدتی ہے، اسے پھر بہت مہنگا کیوں بیچا جاتا ہے؟‘‘



