پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن پی آئی اے کا اعلامیہ

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کی نئی انتظامیہ نے ایک سال تک کسی بھی ملازم کو نوکری سے نہ نکالنے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے معروف بزنس مین اور سرمایہ کار عارف حبیب نے کہا کہ پی آئی اے میں سے ایک سال تک کسی بھی ملازم کو نوکری سے نہیں نکالا جائے گا، کام کرنے والے اور اہل افراد کو میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے گا، پی آئی اے کے مسلسل خسارے کی سب سے بڑی وجہ قرض پر قرض اور بھاری سود کی ادائیگیاں تھیں، ایک وقت میں پی آئی اے پر تقریباً 800 ارب روپے کا قرض واجب الادا ہو چکا تھا جو حکومتی ضمانت کے تحت مسلسل بڑھتا رہا، پی آئی اے کی پہلی بولی مینجمنٹ سسٹم اور معاشی حالات کی وجہ سے ناکام ہوئی تاہم اب شرح سود میں کمی، روپے کی قدر میں بہتری اور تیل کی قیمتوں میں کنٹرول کے باعث نجکاری کا عمل کامیاب رہا۔
ان کا کہنا ہے کہ بہتر مینجمنٹ سٹرکچر اور معاشی استحکام نے اس بار پی آئی اے کی بولی کو کامیاب بنایا، اس وقت پی آئی اے کے 34 طیاروں میں سے صرف 17 آپریشنل ہیں، مستقبل میں ایئر لائن کا فلیٹ بڑھا کر 38 طیاروں تک لے جانے کا منصوبہ ہے، پی آئی اے کے بیشتر اثاثے ہولڈنگ کمپنی میں منتقل کر دیئے گئے ہیں اور موجودہ خسارے کو ایک سال تک برداشت کیا جائے گا، بزنس پلان میں کارگو سسٹم کی بہتری کے لیے خصوصی حکمتِ عملی شامل ہے جس سے آمدن میں اضافہ متوقع ہے۔
عارف حبیب نے بتایا کہ پی آئی اے میں فوجی فرٹیلائزر، عارف حبیب گروپ اور فاطمہ فرٹیلائزر کے 25، 25 فیصد شیئرز ہیں، باقی 25 فیصد حصص دیگر کنسورشیم ممبرز کے پاس ہیں، ایئر لائن میں مستقبل میں ایک اور پارٹنر کو شامل کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے، پی آئی اے کو 70 ارب روپے میں بھی چلایا جا سکتا تھا، تاہم بہتری اور استحکام کے لیے 125 ارب روپے فراہم کیے گئے جنہیں نئے انجنوں کی خریداری، قرضوں کی ادائیگی اور دیگر آپریشنل اخراجات پر خرچ کیا جائے گا، پی آئی اے کی پروازوں میں سیفٹی کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، یہی عوامل ہیں جن کی بنیاد پر وہ ایک سال کے اندر قومی ایئر لائن کو منافع بخش ادارہ بنا دیا جائے گا۔



