ذیابیطس جیسے دائمی مرض سے محفوظ رکھنے میں مددگار آسان عادات

اگر آپ خود کو ذیابیطس ٹائپ جیسے دائمی مرض سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو یہ زیادہ مشکل نہیں۔
بس مخصوص غذاؤں اور معتدل جسمانی سرگرمیوں کو اپنا معمول بنالیں۔
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
جرنل Annals of Internal Medicine میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ بحیرہ روم کے خطے میں استعمال کی جانے والی غذا اور معتدل ورزش سے ذیابیطس سے متاثر ہونے کا خطرہ نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔
بحیرہ روم کے خطے میں استعمال کی جانے والی غذا کو Mediterranean ڈائٹ کہا جاتا ہے۔
اسپین، یونان، اٹلی اور فرانس جیسے ممالک کے شہریوں کی یہ عام غذا پھلوں، سبزیوں، اجناس، گریوں، مچھلی، زیتون کے تیل وغیرہ پر مشتمل ہوتی ہے (سرخ گوشت کا استعمال بہت کم کیا جاتا ہے)۔
اس تحقیق میں 55 سے 75 سال کی عمر کے 4746 زائد جسمانی وزن کے مالک افراد کو شامل کیا گیا تھا، جو آغاز میں ذیابیطس یا امراض قلب سے محفوظ تھے۔
ان افراد کو 2 گروپس میں تقسیم کیا گیا اور ایک گروپ کو پھلوں، سبزیوں، اجناس، گریوں، مچھلی اور زیتون کے تیل پر مشتمل غذا کا استعمال کرایا گیا۔
ان افراد کو روزانہ 600 کیلوریز غذا کے ذریعے فراہم کی گئی، انہیں تیز چہل قدمی، جسمانی مضبوطی اور توازن کی ورزشوں میں مصروف رکھا گیا۔
دوسرے گروپ بحٰرہ روم کے خطے کی غذا کے استعمال کا مشورہ تو دیا گیا مگر کوئی معاونت فراہم نہیں کی گئی۔
ان افراد کی صحت کا جائزہ 6 سال تک لیا گیا اور نتائج سے معلوم ہوا کہ پہلے گروپ میں 9.5 فیصد افراد ذیابیطس ٹائپ 2 کے شکار ہوئے۔
دوسرے گروپ کے 12 فیصد افراد میں اس مرض کی تشخیص ہوئی۔
تحقیق کے مطابق مخصوص غذاؤں کے استعمال اور ورزش کو معمول بنانے سے ذیابیطس سے متاثر ہونے کا خطرہ 31 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ان افراد کی صحت میں بھی بہتری آتی ہے جیسے جسمانی وزن گھٹ جاتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ غذا اور طرز زندگی میں چند تبدیلیوں سے آپ خود کو ذیابیطس جیسے دائمی مرض سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
اس سے قبل نومبر 2024 میں جرنل آف نیوٹریشن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ بحیرہ روم کے خطے کے رہائشیوں کی غذا کا استعمال متعدد کارڈیو میٹابولک امراض جیسے ذیابیطس ٹائپ 2 اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم کرتا ہے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اس غذا کے استعمال سے آئندہ 10 سے 15 سال کے دوران دل کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ گھٹ جاتا ہے جبکہ میٹابولزم کی صحت بہتر ہوتی ہے۔
کارڈیو میٹابولک امراض میں فالج، ہارٹ اٹیک اور ذیابیطس ٹائپ 2 جیسی بیماریاں شامل ہیں۔
ماہرین نے لگ بھگ 22 ہزار افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی جو تحقیق کے آغاز پر ہارٹ اٹیک، فالج یا ذیابیطس ٹائپ 2 سے محفوظ تھے۔
تحقیق میں جائزہ لیا گیا کہ Mediterranean ڈائٹ کے استعمال سے کارڈیو میٹابولک صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ان افراد کی صحت کا جائزہ 21 سال سے زائد عرصے تک لیا گیا اور اس دوران ہارٹ اٹیک، فالج، ذیابیطس ٹائپ 2 اور موت کا سامنا کرنے والے افراد کی فہرست مرتب کی گئی۔
عمر، تعلیم، ہارٹ اٹیک یا فالج کی خاندانی تاریخ، مخصوص ادویات کے استعمال اور جسمانی سرگرمیوں کی سطح کو بھی مدنظر رکھا گیا۔
اس عرصے میں 5028 افراد کو کسی ایک کارڈیو میٹابولک مرض کا سامنا ہوا۔
نتائج سے ثابت ہوا کہ بحیرہ روم کے خطے کی غذا سے صحت کو فائدہ ہوتا ہے اور کارڈیو میٹابولک امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔



