انٹرنیشنل

بی جے پی نے کاکروچ جنتا پارٹی کے آگے گھٹنے ٹیک دیے، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی

بھارتی نوجوانوں کی پارٹی کاکروچ جنتا پارٹی کا پیپر لیک کے معاملے پر تقریباً دو ماہ سے جاری احتجاج رنگ لے آیا اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔

بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے سوشل میڈیا پر استعفے کا متن شیئر کیا جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ فوری طور پر قبول بھی کرلیا۔

دھرمیندر پردھان کے استعفے کا متن
میرے نوجوان ساتھیو، میں پچھلے 4 دہائیوں سے زیادہ عرصے سے طالب علم، استاد اور تعلیم کی اصلاح کے لیے وقف رہا ہوں، میرا ہمیشہ سے یہ یقین رہا ہے کہ ایک مضبوط، جامع اور دور اندیش تعلیمی نظام ہی مضبوط قوم کی بنیاد ہوتا ہے۔ میں ملک کے نوجوانوں کی خواہشات، جذبات اور ان کے جائز مطالبات کا گہرا احترام کرتا ہوں۔

بھارت: پولیس سمجھتی تھی وہ طاقت سے طلبہ کو خاموش کرادینگے: پولیس وین روکنے والی لڑکی کا بیان

انہوں نے اپنے استعفے میں لکھا کہ مئی 2026 کو ہونے والے NEET-UG کے امتحان میں بے قاعدگیاں سامنے آئیں، بھارت سرکار نے فوراً اس کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات سی بی آئی (CBI) کے سپرد کیں اور امتحان منسوخ کر کے دوبارہ نئی تاریخ کا اعلان کیا۔

دھرمیندر پردھان کا کہنا ہے میرا یہ عزم تھا کہ ہم کسی بھی قابل طالب علم کے مستقبل کو امتحان مافیا کی وجہ سے تباہ نہیں ہونے دیں گے، کسی بھی طالب علم کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ 16 جولائی کو اعلان کیے گئے NEET-UG کے نتائج تسلی بخش رہے، جن میں غریب پس منظر سے آنے والے کئی قابل طلبہ کو بھی کامیابی ملی مگر اس دوران بھی کئی طلبہ کو گمراہ کرنے کے لیے ذمہ دار عہدوں پر بیٹھے افراد نے رکاوٹ ڈالنے کی کوش کی، جس سے دل انتہائی رنجیدہ ہوا۔

مودی کا بیان مسترد،کاکروچ جنتا پارٹی کی وزیر تعلیم کے استعفیٰ نا دینے کی صورت میں ملک گیر احتجاج کی دھمکی

مستعفی وزیر تعلیم نے مزید کہا میں ہمیشہ سے اپنے جمہوری نظام کی طاقت پر اٹل یقین رکھنے والا رہا ہوں اور نوجوانوں کی خواہشات، خوابوں اور توقعات کا گہرا احترام کرتا آیا ہوں، یہ صرف بھارت کا مستقبل ہی نہیں بلکہ ایک نئے اور ترقی یافتہ بھارت کے علمبردار، معمار اور مستقبل کے شہ کار بھی ہیں، پچھلے 10 دنوں کے واقعات کو دیکھ کر میرا دل دکھی ہے، یہ میرے لیے ذاتی وقار کا مسئلہ نہیں ہے،بھارت کی نوجوان طاقت ہی اس ملک کی اصل طاقت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ملک کی نوجوان طاقت کو فریب کے چکر میں پھنسنے نہیں دیں گے، یہی میرا عزم ہے، جنتر منتر پر اور ملک میں جو صورتحال بنی ہے، اس صورتحال سے ملک دشمن قوتیں فائدہ نہ اٹھائیں، ملک کا اتحاد قائم رہے، بھارت کے ایک بھی طالب علم کا مستقبل قانونی پیچیدگیوں میں نہ الجھے، ہمارے بچے اپنا وقت پڑھائی میں لگائیں، کیریئر بنانے پر توجہ دیں، اسی بات پر غور کرتے ہوئے میں نے اپنا استعفی وزیراعظم کو بھیج دیا ہے۔

وزیر تعلیم کے استعفے پر کاکروچ جنتا پارٹی کا ردعمل

اس حوالے سے کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے، ہمارے تمام مطالبات باضابطہ تحریری طور پر تسلیم کر لیےگئے ہیں،ہم گھر چلے جائیں گے، اتوار کو ملک بھر میں پُرامن طور پر مشعل بردار مارچ کریں گے۔

دوسری جانب سی جے پی کے صدر ابھیجیت دیپکے نے اپنے ردعمل میں کہا یہ کہتے تھے اس سرکار میں استعفے نہیں ہوتے، دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا ہے، ہم نے کردکھایا۔

ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر آپ ڈریں نہیں اورحکومت کے سامنے جھکیں نہیں، تو آپ کسی سے بھی استعفیٰ لے سکتے ہیں، جمہوریت میں ڈرنا نہیں چاہیے۔

بھارتی چیف جسٹس کے نوجوانوں سے متعلق متنازع بیان کے بعد شروع ہونے والی مہم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے؟

خیال رہے کہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے تقریباً دو ماہ سے دارالحکومت نئی دہلی میں جنتر منتر کے مقام پر احتجاج جاری تھا اور اس دوران بھارت کی نامور شخصیت سونم وانگچک نے 26 روزہ بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔

کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے 20 جولائی کو سب کو جنتر منتر پہنچنے کی کال دی گئی جس پر ہزاروں کی تعداد میں نوجوان احتجاج میں پہنچ گئے تاہم بھارتی پولیس کی جانب سے نوجوانوں پر بدترین لاٹھی چارج کیا گیا اور واٹر کینن کا استعمال کیا گیا، درجنوں نوجوانوں کو حراست میں بھی لیا گیا۔

طلبہ پر پولیس لاٹھی چارج کی ویڈیو دیکھنے سے انکار کرنے والے بھارتی چیف جسٹس کو وضاحتیں دینا پڑگئیں

بھارتی وزیراعظم نے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کر کے نوجوانوں کو احتجاج ختم کرنے کی ترغیب دی لیکن مودی سرکار کے تمام اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود بھارتی نوجوان وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ڈٹے رہے اور حکومت کا فاسٹ ٹریک عدالتیں بنانے کا مطالبہ مسترد کردیا۔ بھارت کی اپوزیشن جماعتیں اور سیاسی و سماجی شخصیات بھی نوجوان مظاہرین کے مطالبات کو جائز قرار دیتی رہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker