یورپ امریکا میں محفوظ اپنے سونے کے ذخائر کیوں واپس نکال رہا ہے؟

عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، جنگوں اور معاشی غیر یقینی کے ماحول میں دنیا بھر کے مرکزی بینکوں نے اپنے مالیاتی ذخائر کو زیادہ محفوظ اور فوری دستیاب بنانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
اسی سلسلے میں نیدرلینڈز کے مرکزی بینک نے امریکا اور کینیڈا میں موجود اپنے سونے کے ذخائر میں سے چھیاسی ٹن سونا لندن منتقل کر دیا ہے۔ ڈچ مرکزی بینک کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ مارچ سے اگست کے دوران منتقل کیا گیا یہ سونا اب بینک آف انگلینڈ کے انتہائی محفوظ خزانوں میں رکھا گیا ہے۔
نیدرلینڈز کے پاس امریکا اور کینیڈا میں مجموعی طور پر تقریباً تین سو تیرہ ٹن سونا موجود تھا۔
مرکزی بینک کے حکام کے مطابق اس منتقلی کا مقصد کسی فوری معاشی بحران کی پیش گوئی کرنا بالکل نہیں، بلکہ ملک کو کسی بھی ممکنہ اور شدید بحران سے نمٹنے کے لیے زیادہ تیار اور مضبوط بنانا ہے۔
نیدرلینڈز کے مرکزی بینک کے گورنر اولاف سلیپن نے اس پیشرفت پر اپنے بیان میں کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ ان ذخائر کو کبھی استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، تاہم موجودہ عالمی حالات میں ملکی مالیاتی ذخائر کی لچک اور بحران سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط کرنا انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ لندن کو اس منتقلی کے لیے اس لیے منتخب کیا گیا کہ یہ دنیا کے اہم ترین اور بڑے عالمی تجارتی مراکز میں شمار ہوتا ہے جہاں سے سونے کی فوری خرید و فروخت آسان ہوتی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ نیدرلینڈز کا یہ اقدام کوئی الگ واقعہ نہیں ہے، کیونکہ اس سے قبل فرانس بھی امریکا سے اپنے سونے کے ذخائر واپس منتقل کرنے کا اعلان کر چکا ہے جبکہ جرمنی کا مرکزی بینک بھی نیویارک اور پیرس سے دو سو سولہ ٹن سے زائد سونا واپس لا چکا ہے۔



