امریکی ریاست فلوریڈا میں گرنے والا طیارہ حادثے سے قبل فضا میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا: تحقیقات

امریکی ریاست فلوریڈا کی پام بیچ کاؤنٹی میں گرکر تباہ ہونے والا طیارہ زمین پر گرنے سے پہلے فضا میں ہی جزوی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا۔
تفتیش کاروں کے مطابق طیارے کا ملبہ آدھے میل کے دائرے تک پھیلا ہوا ہے اور کچھ حصے حادثے کی اصل جگہ سے کافی دور مل سکتے ہیں۔
طیارے کی آخری آڈیو ریکارڈنگ میں کو پائلٹ کو گھبرائی ہوئی آواز میں چیختے ہوئے سنا گیا کہ ’ہم 20 ہزار فٹ فی منٹ کی رفتار سے نیچے جا رہے ہیں، ہم زمین سے ٹکرانے والے ہیں‘۔
فلائٹ ڈیٹا کے مطابق طیارہ محض ایک منٹ میں تقریباً 27 ہزار فٹ نیچے گرا، ابتدائی شواہد کے مطابق طیارہ زمین پر گرنے سے پہلے ہی فضا میں مبینہ طور پر ٹوٹنا شروع ہو گیا تھا جس کے باعث اس کا ملبہ دور دور تک بکھر گیا۔
امریکا کی پام بیچ کاؤنٹی میں نجی کمپنی کا طیارہ گر کر تباہ، 9 افراد ہلاک
اس حادثے سے متعلق ہوا بازی کے ماہرین میں سوشل میڈیا پر زبردست بحث چل رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق گاڑیوں کے ڈیش کیم کی ویڈیوز اور اسکرین شاٹس سے ایسا لگتا ہے کہ طیارے کی ٹیل کا اوپر والا حصہ جسے اسٹیبلائزر کہتے ہیں طیارہ گرنے کے دوران غائب ہوچکا تھا۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق کسی طیارے کا یہ حصہ الگ ہوجائے تو وہ اپنی پچ اسٹیبلٹی کھو دیتا ہے اور طیارہ ’لان ڈارٹ‘ یعنی بالکل سیدھا سوئی کی طرح زمین کی طرف رخ کر لیتا ہے۔ جس سے طیارے کا بچنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
یکم نومبر کو پیش آنے والے خوفناک حادثے میں 2 پائلٹس سمیت طیارے میں سوار تمام 9 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں ٹیکساس کے ایک ہی خاندان کے 4 افراد ایڈم رابنسن اور ہیلن شارپ اور ان کے دو معصوم بچے 4 سالہ ایما اور 2 سالہ چارلی شامل تھے۔ طیار ٹیکساس کے شہر آسٹن سے بہاماس جارہا تھا۔
فضائی ٹریفک کنٹرول کے ریکارڈ اور فلائٹ ڈیٹا کے مطابق حادثہ انتہائی تیز رفتاری سے ہوا۔ طیارہ 35 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑ رہا تھا جب پائلٹس نے شدید ہوا کے دباؤ اور جہاز پر برف جمنے کی اطلاع دی، بلندی بڑھانے کی اجازت ملنے کے 30 سیکنڈ کے اندر ہی طیارہ اچانک اور انتہائی تیز رفتاری سے نیچے گرنے لگا۔



