پنجابی بندہ ، ایک بیوی دو بچے، ٹیم خاک بنے آسان والا

ڈاکٹر اشفاق احمد صاحب سے ہمارا پہلا تعارف 2006 کے نصاب کی تیاری کے دوران ہوا، جب امان بھائی نے جنرل سائنس ششم کی ایڈیٹنگ کے لیے ڈاکٹر صاحب کا بتایا اور ہمیں ان کے جیل روڈ والے گھر بھیجوایا۔ ویسے یہ پہلی ملاقات بھی خاصی دلچسپ رہی۔ ڈاکٹر صاحب نے ہمیں کتاب کا مصنف جانتے ہوئے خوب جھاڑ پلائی، مگر جب تفصیلی تعارف ہوا اور ہم نے فیملی فرینڈ ہونے کا ذکر کیا تو معلوم ہوا کہ وہ تو فیملی ٹیچر نکلے۔ ایف ایس سی میں بڑی آپی کو پڑھا چکے تھے اور بڑے ابو کے قریبی تعلق والوں میں شمار ہوتے تھے۔
خیر، ڈاکٹر صاحب بلوچستان یونیورسٹی کے شعبۂ فزکس کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کے عہدے سے قریب پندرہ سولہ برس قبل ریٹائر ہوئے، مگر عملی زندگی میں آج بھی علمی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ہمارے دفتر تشریف لائے۔ گو کہ ایک دو روز قبل ہم خود ان کے گھر حاضری دے چکے تھے، مگر فرمانے لگے:
“بچے کے پاس لندن جا رہا ہوں، دل چاہا آپ سے ملتا جاؤں۔”
یہ وہ اعلیٰ روایات ہیں جو شاید اگلی نسل میں خال خال ہی ملتی ہیں۔
اب جب ڈاکٹر صاحب نے یہ اعزاز بخشا تو ہم نے بھی سیلفی بنا کر اس ملاقات کو ریکارڈ پر رکھنا ضروری جانا۔ ویسے ہمارے نئے دفتر کے یہ پہلے مہمان بھی تھے۔
ڈاکٹر صاحب جب بھی ملتے ہیں تو ہمارے ادارے کی ایک کمی ضرور زیرِ بحث آتی ہے۔ فرماتے ہیں:
“آپ لوگوں کے ہاں، بلکہ آپ جیسے بیشتر اشاعتی اداروں میں، کام سنگل ہینڈڈ ہو رہا ہے۔ ٹیمیں بنتی نہیں، اور اس کا دباؤ ذمہ دار مصنفین پر آتا ہے۔”
یہ باتیں ڈاکٹر صاحب کی ہمیشہ کی تھیں، تو ہم نے رخ بدلنے کے لیے عرض کیا:
“ڈاکٹر صاحب! پنجابی بندہ، ایک بیوی، دو بچے… ٹیم خاک بنائے!
باہر کے جس بندے پر محنت کریں، وہ بھاگ جاتا ہے۔
آپ اپنی فرمائیں، آپ کا قبیلہ تو تربیت یافتہ ہے، وہاں کیا نمونے نکل رہے ہیں؟”
پھر ہم نے چند سینئر، نام چین لکھاریوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات بھی سنائے اور ایک لاہور کے پروفیسر کو لکھا گیا اپنا جملہ بھی دہرا دیا کہ:
“اشفاق احمد صاحب کہتے ہیں، جب تم کسی پر اندھا اعتماد کرتے ہو تو وہ یہ ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا کہ تم واقعی اندھے ہو۔”
اب باری ڈاکٹر صاحب کی تھی۔ ہنس کر فرمانے لگے:
“آپ درست فرماتے ہیں۔ ہمارے ایک ساتھی فزکس ڈیپارٹمنٹ سے ساری سروس میں ایک بھی پیریڈ لیے بغیر ریٹائر ہوئے، اور جاتے ہوئے کہنے لگے: اللہ کا بڑا شکر ہے عزت سے ریٹائر ہو گیا!”
ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ آج سے قریب پچپن برس پہلے جب وہ پی ایچ ڈی کے لیے لندن گئے تو سالانہ پچیس پاؤنڈ صرف کتابوں کی خریداری کے لیے ملا کرتے تھے۔ وہ اور ان کا ایک ساتھی ان پیسوں سے کتابیں خریدا کرتے، جبکہ باقی احباب وہ رقم جمع کرتے رہتے۔
فرمانے لگے کہ برگیڈیئر صاحب کی وائس چانسلری میں ہر ڈیپارٹمنٹ کو چار لاکھ روپے دیے گئے۔ بیشتر شعبوں کی کتابوں کی فہرست پچاس ساٹھ ہزار سے اوپر نہ جا سکی، تو ہم نے برگیڈیئر صاحب سے مل کر تقریباً پورا بجٹ فزکس ڈیپارٹمنٹ کی کتابوں پر خرچ کروا دیا۔ المیہ یہ ہے کہ استعمال وہاں بھی کوئی نہیں کرتا۔
بتا رہے تھے کہ ہمیں دس ہزار روپے اردلی الاؤنس ملا کرتا تھا، سرکار نے وہ بھی بند کر دیا۔ سفارشی بھرتیوں اور ترقیوں کے کئی واقعات بھی سنائے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارا پورا تعلیمی نظام آخری سانسیں لے رہا ہے، معلوم نہیں کب وینٹیلیٹر سے اتار دیا جائے۔
یہ یونیورسٹیاں آخر دے کیا رہی ہیں؟
یہ بلوچستان یونیورسٹی ہے جہاں سے ہم جیسے کئی لوگوں نے یونیورسٹی کی شکل دیکھے بغیر ڈگریاں حاصل کر لیں۔
اور پنجاب یونیورسٹی، جہاں داخلہ لینا کتنے لوگوں کا خواب ہی رہا، اسے اپنی معروف فیکلٹیوں میں داخلے پورے کرنے کے لیے اخبارات میں کئے بار اشتہارات دینا پڑ گئے۔
اب ڈاکٹر صاحب کی شکایت ہمارے جیسے اداروں سے تھی تو اس کا حل Rehan Allahwala صاحب نے کچھ یوں بتایا کہ:
“جس شعبے کو ہیومن ریسورس درکار ہے، وہ اپنا نصاب خود بنائے، ادارے قائم کرے، اسکلڈ لیبر، وائٹ کالر اور بلیو کالر تیار کرے، خود بھی مستفید ہو اور دوسروں کو بھی فراہم کرے”۔
"شادیوں اور بچوں کے چکر میں نہ پڑے۔”
خوش رہیں، خوشیاں بانٹیں۔
اللہ سبحان و تعالیٰ ہم سے راضی ہوں۔ آمین
