پاکستان

وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے

وفاقی حکومت نے امریکہ ۔ایران جنگ کے بعد اختیار کئے گئےفیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات فوری طور پر ختم کر دیے،

وفاقی حکومت نے امریکہ ۔ایران جنگ کے بعد اختیار کئے گئےفیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات فوری طور پر ختم کر دیے،ایک دن جمعہ کی اضافی چھٹی ختم، 4 کی بجائے 5 روز ورکنگ ڈے بحال، 50 فیصد ورک فرام ہوم کر نے کا حکم واپس،سرکاری گاڑیوں کے تیل میں 50فیصد کٹوتی بھی واپس ،مارکیٹ اوقات کار پابندیاں برقرار ،وزیراعظم کی منظوری کےبعد کابینہ ڈویژن نے نوٹیفکیشن جاری کردیا ۔ایک دن کی جمعہ کی اضافی چھٹی ختم ہوگئی ہےاب 4 کی بجائے 5 روز ورکنگ ڈے بحال کردیئے گئے ۔

وزیراعظم کی منظوری کے بعد کابینہ ڈویژن نے نوٹیفکیشن جاری کردیا, جس کے مطابق مارکیٹ اوقات کار سے متعلق پابندیاں برقرار رہیں گی۔ اس کے علاوہ دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور بازار رات 9 بجے بند ہوں گے، ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔ اس کے علاوہ شادی ہالز، مارکیز اور کمرشل تقریبات رات 10 بجے بند ہوں گے۔ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس پر رات 11 بجے تک بندش برقرار رہے گی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ہوم ڈیلیوری اور ٹیک اوے مستثنیٰ ہوں گے۔ پھل،سبزی، کریانہ اسٹورز، فارمیسیز، اسپتال،میڈیکل لیبارٹریز کلینک کواوقات کارکی پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ بیکریاں، تندور، دودھ کی دکانیں، پیٹرول پمپس اور الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشن بھی مستثنیٰ ہوں گے۔ جم، اسپورٹس سہولیات، آئی ٹی کمپنیاں اورکال سینٹرز بھی مقررہ بندش اوقات سے مستثنیٰ ہوں گے۔ علاقائی کشیدگی سے پہلے وزرات خزانہ کے لاگو کفایت شعاری اقدامات برقرار ہیں گے۔

سرکاری محکموں میں ایک دن کی اضافی چھٹی ختم کردی گئی، اب 4 کی بجائے 5 روز ورکنگ ڈے بحال کردیئے گئے ۔ سرکاری محکموں کی گاڑیوں کو ملنے والے تیل میں 50فیصد کٹوتی بحال کردی گئی، تمام محکموں کی 60 فیصد گاڑیوں کی بندش بحال کردی گئی ۔ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران کی تنخواہ سے 2 دن کی کٹوتی ختم کردی گئی۔

تمام سرکاری محکموں کے اخراجات میں 20 فیصد کمی کا فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ وفاقی وصوبائی وزرا، مشیران، معاون خصوصی اور گورنرز کے بیرون ملک دوروں پر بھی پابندی ختم کردی گئی۔ سرکاری اور نجی شعبے میں انتہائی ضروری سروسز کو چھوڑ کر 50 فیصد اسٹاف کام کی شرط ختم کردی گئی ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker