
ممبر انسپیکشن ٹیم کے مطابق چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ ظفر راجپوت نے انکوائری رپورٹ، حتمی سماعت اور تمام حقائق کا جائزہ لینے کے بعد سینئر سول جج ایاز علی کناسرو کو جبری ریٹائرمنٹ کی سزا سنائی۔
ممبر انسپیکشن ٹیم کے مطابق سینئر سول جج کے خلاف کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات انکوائری میں ثابت ہوئے، کیس کی تفصیلی تحقیقات انکوائری افسر جسٹس شمس الدین عباسی نے کیں۔
مجاز اتھارٹی نے انکوائری مکمل ہونے کے بعد جج کو ملازمت سے برطرف کرنے کی سفارش کی تھی جس پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے اور فریقین کا مؤقف سننے کے بعد جبری ریٹائرمنٹ کی سزا مقرر کی۔
سندھ ہائیکورٹ کا حکم نامہ فوری طور پر نافذ العمل کر دیا گیا۔



