واشنگٹن: پاکستانی سفارت خانے میں 5 اگست کو یوم استحصال کے موقع پر خصوصی ویبنار کا انعقاد
واشنگٹن ڈی سی میں پاکستان کے سفارت خانے میں یوم استحصال 5 اگست کے موقع پر خصوصی ویبنار کا انعقاد کیا گیا۔

ویبنار کا موضوع تھا ‘جنوبی ایشیا میں بین الاقوامی قانون کو درپیش چیلنجز: مسئلہ جموں و کشمیر اور معاہدۂ سندھ طاس’۔
ویبنار کا آغاز صدر، وزیراعظم اور نائب وزیر اعظم /وزیر خارجہ کے پیغاما ت سے کیا گیا، جس میں کشمیر ی عوام کے ساتھ غیر متزلزل اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
ویبنار سے ڈاکٹر فرحان مجاہد،سیکریٹری جنرل کشمیر سیویٹاس ،علی عنار ،صدر، فاؤنڈیشن فار امریکن سکیورٹی اینڈ ٹیکنالوجی، ڈاکٹر قمر چیمہ،ایگزیکٹو ڈائریکٹر، صنوبر انسٹی ٹیوٹ اور سفیر منیر اکرم نے خطاب کیا, مقررین اور کشمیری نمائندگان نے آرٹیکل 370 اور 35A کی غیر قانونی منسوخی کے پسں پردہ بھارت کے مذموم عزائم پر روشنی ڈالی۔
اس کے علاوہ بھارت کی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی منسوخی کے مضمرات کا جائزہ لیا گیا۔
شرکاء کی جانب سے جنوبی ایشیاء میں بھارت کی پانی کو بطور ہتھیا ر استعمال کرنے اور معاہدہ سند ھ طاس کی یکطرفہ معطلی کی بھی بھر پور مذمت کی گئی ۔
اس موقع پر پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی ا قدامات بشمول آبادی کے تناسب کی تبدیلی کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے متصادم اور کشمیریت کی روح کے منافی قرار دیا۔
پاکستان کے سفیر نے کہا کہ آج سات سال کے بعد بھی مقبوضہ کشمیر میں معاشی دباؤ، سیاسی جبر ، عسکریت پسندی ، آبادیاتی تبدیلی اور بنیادی حقوق کی مسلسل پامالی نے بھارتی غیر قانونی تسلط کے خلاف کشمیریوں کی عوامی مزاحمت کو مضبوط اور فعال کیا ،پاکستان نے ہمیشہ مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کے خلاف اپنے کشمیری بہنوں اور بھائیوں کی حمایت میں مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ ، او آئی سی اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر بھر پور انداز میں اُٹھایا ہے۔
انہوں نے کہا بھارت یکطرفہ طور پر مقبوضہ کشمیر کی قانونی اور آبادیاتی ساخت اور حیثیت تبدیل کر رہا ہے، جس کا پرامن حل صرف اور صرف اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل درآمد سے ہی ممکن ہے ، مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست کا بنیادی تنازع ہے، اس کے پُر امن حل سے علاقائی امن اور سلامتی پر گہرے اثرات مُرتب ہو ں گے۔
ویبنار سے ماہرین ، دانشور اور سرکردہ کمیونٹی رہنماوں کا خطاب، کشمیر ی عوام کے ساتھ بھر پور اظہار یکجہتی کیا۔
ڈاکٹر قمر چیمہ نے اِس امر پر زور دیا کہ پانی کے بغیر زندگی ممکن نہیں، بھارتی آبی جارحیت در حقیقت بین الاقوامی سندھ طاس معاہدے کی صر یحاً خلاف ورزی ہے۔
ویبنار کے شرکاء نے بڑ ھتی ہوئی بھارتی جار حیت اور لا قانونیت کا بھر پور مقابلہ کرنے کے ضمن میں قابل عمل تجاویز پیش کیں۔
اِ س موقع پر مقررین نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا نوٹس لیں اور اس دیرینہ تنازعے کے منضافہ حل کے لیے اپنا موثر کردار ادا کریں۔



