اے آئی تصاویر نے شادی شدہ زندگی میں ہلچل مچا دی، سابق رکن اسمبلی عدالت پہنچ گئے

کراچی: سابق رکن سندھ اسمبلی غلام رسول انڑ نے سابقہ اہلیہ کے خلاف مبینہ دھوکا دہی، بلیک میلنگ اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا۔
درخواست گزار غلام رسول انڑ نے مؤقف اختیار کیا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ایک خاتون سے رابطہ ہوا اور بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا۔
ان کے مطابق جب بھی خاتون سے چہرہ دکھانے کا کہا گیا تو وہ اے آئی ٹیکنالوجی سے تیار کردہ تصاویر بھیج دیتی تھی، جس کے باعث وہ خاتون کی اصل شکل سے لاعلم رہے۔
غلام رسول انڑ کے مطابق رواں سال 23 فروری کو ویڈیو کال کے ذریعے خاتون سے نکاح ہوا، تاہم نکاح کے روز بھی خاتون نے نقاب کیا ہوا تھا۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ نکاح کے بعد جب انہوں نے خاتون کو دیکھا تو وہ سوشل میڈیا پر بھیجی گئی تصاویر سے بالکل مختلف تھی۔
درخواست گزار کے مطابق خاتون کی اصل شکل سامنے آنے کے بعد انہوں نے اس سے دوری اختیار کرلی اور بالآخر 9 اگست کو اسے طلاق دے دی۔
غلام رسول انڑ نے الزام عائد کیا کہ طلاق کے بعد سابقہ اہلیہ کی جانب سے انہیں مبینہ طور پر بلیک میل کیا جا رہا ہے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ سابقہ اہلیہ کے خلاف دھوکا دہی، بلیک میلنگ اور مبینہ دھمکیوں کے الزامات پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔
عدالت نے درخواست پر پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے سے متعلق رپورٹ طلب کرلی ہے۔ عدالت نے پولیس کو 17 اگست تک اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔



