قلات: یہ تصویر 28 مارچ 1982 کی ہے،جب قلات میں ایک فٹ برف موجود تھی، آج بھی قلات کے عوام گیس اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم
یہ تصویر 28 مارچ 1982 کی ہے، جب مارچ کے مہینے میں بھی قلات میں ایک فٹ برف موجود تھی۔ قلات پاکستان کے سرد ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں سردی مستقل حقیقت ہے۔

اس کے باوجود، انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بھی قلات کے عوام گیس اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ شدید سرد موسم میں یہ محرومی عوام کی زندگی کو ناقابلِ برداشت بنا دیتی ہے۔
سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث قلات کے بہت سے باسی مجبوری کے تحت سردیوں میں اُن رشتہ داروں یا گھروں کا رخ کرتے ہیں جہاں سفر اور رہائش کی سہولت میسر ہو۔ تاہم، بڑی تعداد میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس نہ سفر کے وسائل ہیں اور نہ ہی کسی اور جگہ رہائش کا کرایہ برداشت کرنے کی استطاعت۔ ایسے شہری مجبوراً انہی سخت حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
قلات کے عوام اپنے منتخب ایم پی ایز اور ایم این ایز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس سنگین اور دیرینہ مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور فوری عملی اقدامات کے ذریعے قلات میں گیس اور بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔
قلات کے عوام کسی رعایت کے نہیں، بلکہ اپنے بنیادی اور آئینی حق کے طالب ہیں۔



